کتابوں کی خوشبو
عارف نے اپنے ایگزیکٹو آفس کی کھڑکی سے باہر دیکھا۔ شہر کی لائٹیں ٹمٹما رہیں تھیں، جیسے زمین پر اترے ہوئے ستارے۔ اس کا فون بجا۔ ایک نامعلوم نمبر۔
"ہیلو؟"
"کیا میں عارف احمد سے بات کر رہا ہوں؟" ایک بوڑھی، دھیمی آواز تھی۔
"جی۔"
"میں منظور حسین ہوں۔ آپ کے استاد جناب اشفاق الحق کا نواسہ۔ انہوں نے آپ کے لیے کچھ چھوڑا ہے۔"
عارف کا دل ایک دھکے سے دھڑکا۔ استاد اشفاق الحق۔ وہ بزرگ جو اسے پرائمری اسکول میں پڑھاتے تھے۔ چالیس سال گزر گئے تھے۔ عارف نے سنا تھا کہ وہ انتقال کر گئے ہیں، مگر مصروفیت میں وہ جنازے تک نہ جا سکا تھا۔ ایک گہرا احساس جرم اس کے اندر کھد گیا۔
"کیا... کیا چھوڑا ہے؟"
"ایک خط۔ اور ایک چابی۔ اگر آپ وقت نکال سکیں تو میرے پاس آ جائیں۔"
استاد صاحب کا گھر شہر کے پرانے حصے میں تھا، جہاں گلیاں تنگ تھیں اور عمارتیں زمانے کی دھول میں ڈوبی ہوئی۔ منظور حسین ایک سادہ سی چوکھٹ پر کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے عارف کو ایک لکڑی کا چھوٹا سا صندوقچہ دیا۔
"نانا نے ہدایت کی تھی کہ یہ خاص طور پر آپ کو دیا جائے۔"
صندوقچہ کھولا۔ اندر ایک پرانی، زنگ آلود چابی تھی، اور ایک خط، سیاہ mürekkap سے لکھا ہوا۔
"میرے عارف،
تمہیں یہ خط پڑھتے وقت میں اس دنیا میں نہیں ہوں گا۔ مگر تمہاری تلاش ختم نہیں ہوئی۔ تم ہمیشہ علم کی خوشبو سے محروم رہے۔ تم نے ڈگریاں حاصل کیں، دولت کمائی، مگر وہ خوشبو، جو صرف سچے علم میں ہوتی ہے، وہ تمہیں نہیں ملی۔ یہ چابی تمہیں 'بے نام کتب خانے' تک لے جائے گی۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں وہ کہانیاں محفوظ ہیں جو کبھی نہیں لکھی گئیں، وہ سبق جو کبھی نہیں پڑھائے گئے۔ تمہارا سبق وہیں انتظار کر رہا ہے۔
تمہارا استاد،
اشفاق"
عارف حیران رہ گیا۔ بے نام کتب خانہ؟ یہ سب کیا تھا؟ خط کے پیچھے ایک نقشہ تھا، ہاتھ سے بنایا ہوا، جس پر ایک جگہ نشان زد تھی: "چاندنی چوک کے قریب، ببول کے سوکھے درخت کے نیچے۔"
عارف کے پاس کوئی وجہ نہیں تھی اس پر یقین کرنے کی۔ وہ ایک منطقی انسان تھا، ڈیٹا اور کوڈ پر یقین رکھتا تھا۔ مگر استاد کی آخری خواہات... اسے نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔
چاندنی چوک کے قریب، اسے وہ ببول کا درخت ملا — واقعی سوکھا ہوا، بے جان۔ درخت کے تنے میں ایک چھوٹا سا، نظر نہ آنے والا سا lock تھا۔ اس نے حیرت سے چابی نکالی، اور اسے lock میں ڈالا۔ بالکل فٹ بیٹھ گئی۔ اس نے چابی گھمائی۔
ایک دھیمی سی گڑگڑاہٹ ہوئی، اور درخت کے نیچے کی مٹی دھنس گئی، ایک سیڑھی ظاہر ہوئی جو نیچے تاریکی میں اترتی تھی۔ عارف نے اپنے فون کی ٹارچ جلائی اور نیچے اترنا شروع کیا۔
نیچے اتر کر وہ جس منظر سے دوچار ہوا، اس نے اس کی سانس روک دی۔
یہ ایک وسیع اور لامتناہی لگنے والا ہال تھا، جس کی چھت نظر نہیں آ رہی تھی۔ ہر طرف الماریاں تھیں، جن میں کتابیں نہیں، بلکہ چمکتی ہوئی، ہلکی سی نیلی روشنی خارج کرتی ہوئی شیشے کی سلینڈر نما ٹیوبیں تھیں۔ ہر ٹیوب کے نیچے ایک تختی تھی، جس پر نام اور تاریخ لکھی تھی۔ ہوا میں پرانی کتابوں، چمڑے اور کاغذ کی مخصوص خوشبو تھی، مگر اس کے ساتھ ہی ایک اور بو تھی — بارش کے بعد کی مٹی کی، اور دودھ کی ملائی کی۔ یہ بو بچپن کی تھی۔
"خوش آمدید، عارف۔"
عارف نے مڑ کر دیکھا۔ ایک بوڑھا آدمی، جس نے چشمیں پہن رکھی تھیں اور اس کے ہاتھ میں ایک ڈسٹر تھا، ایک الماری کے پاس کھڑا تھا۔ وہ زندہ انسان لگ رہا تھا، مگر اس میں ایک شفافیت تھی، جیسے وہ روشنی سے بنا ہو۔
"آپ... آپ کون ہیں؟"
"میں اس کتب خانے کا محافظ ہوں۔ آپ کے استاد نے آپ کو بھیجا ہے۔"
"یہ جگہ کیا ہے؟ یہ ٹیوبیں کیا ہیں؟"
محافظ نے ایک ٹیوب کو ہاتھ لگایا۔ "یہ کتابیں نہیں ہیں۔ یہ 'یادوں کے بیج' ہیں۔ ہر انسان کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جو اس کی سمجھ، اس کے دل پر گہرا اثر ڈالتے ہیں — ایک سبق، ایک مکالمہ، ایک نگاہ۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ، یہ یادوں کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں۔ یہ کتب خانہ ان گمشدہ، مگر قیمتی لمحات کو محفوظ کرتا ہے۔"
عارف نے قریب کی ایک الماری پر نظر ڈالی۔ تختی پر لکھا تھا: "ذوالفقار علی — وہ دن جب اس نے پہلی بار اپنے باپ کی آنکھوں میں فخر دیکھا — ۱۲ جون ۱۹۷۲"۔
"یہاں ہر انسان کا ایک 'بیج' ہے؟" عارف نے پوچھا۔
"ہر اس انسان کا جس نے کبھی سیکھا، یا سکھایا۔ اب آپ کی باری ہے۔ آپ کا بیج بھی یہیں کہیں ہے۔ آپ کے استاد نے اسے اپنے ہاتھوں سے یہاں رکھا تھا۔"
محافظ نے عارف کو ہال کے گہرائی میں لے چلے۔ وہ الماریاں جو قدیم زمانے کی لگتی تھیں ان سے گزرتے ہوئے، عارف نے نام پڑھے: چنگیز خان کے ایک گمنام مشیر کا بیج، ایک گمنام ماں کا بیج جس نے اپنے بچے کو زندگی کا سبق دیا، ایک کسان کا بیج جس نے پہلی بار زمین کے راز سمجھے۔
آخرکار وہ ایک خاص شلف پر رکے۔ اس پر لکھا تھا: "اشفاق الحق — شاگرد: عارف احمد۔ تاریخ: ۱۵ مارچ ۱۹۸۴۔"
عارف کا دل تیزی سے دھڑکا۔ "یہ... یہ میرا دن ہے؟"
"جی۔ اپنا ہاتھ ٹیوب پر رکھو۔"
عارف نے ہاتھ رکھا۔ ٹیپ گرم تھی، اور جیسے ہی اس نے چھوا، اس کے سامنے کمرے کی دیواریں پگھل گئیں۔ وہ ایک چھوٹے سے اسکول کے کمرے میں کھڑا تھا۔ وہ خود، آٹھ سال کا، موٹے موٹے چشمے پہنے، ایک ڈیسک پر بیٹھا تھا۔ اور سامنے استاد اشفاق الحق کھڑے تھے، جوان، توانا، ان کی داڑھی میں چند سفید بال تھے۔
اس نے اپنی پرانی آواز سنی۔ "عارف بیٹا، یہ بتاؤ کہ تم بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہو؟"
چھوٹے عارف نے فخر سے کہا، "میں سائنس دان بنوں گا! میں ستاروں تک جاؤں گا!"
استاد نے مسکرا کر کہا، "بہت اچھا۔ مگر یاد رکھو، اصل سائنس صرف ستاروں کو جاننے میں نہیں، بلکہ اپنے اندر کے انسان کو جاننے میں ہے۔"
چھوٹے عارف نے سمجھا نہیں۔ "کیسے؟"
استاد نے اپنے بیگ سے ایک پرانا، جلد بند کتاب نکالی۔ "یہ لو۔ یہ کوئی نصابی کتاب نہیں ہے۔ اس میں کوں sum نہیں ہے، کوئی فارمولا نہیں ہے۔ یہ ایک بزرگ کی ڈائری ہے، جو اس نے اپنی زندگی کے سفر میں لکھی تھی۔"
عارف نے کتاب کھولی۔ اندر ہاتھ سے لکھی تحریر تھی، سادہ سی۔ پہلا صفحہ: "آج میں نے سیکھا کہ سب سے بڑا علم یہ ہے کہ تم یہ جان لو کہ تم کچھ نہیں جانتے۔"
استاد نے کہا، "اس کتاب کو پڑھو۔ ہر ہفتے مجھے اس کا ایک سبق بتانا۔ اور ہر سبق کے ساتھ، تم ایک نئی کتاب پاؤ گے۔"
منظر بدل گیا۔ اب وہ اسکول کی لائبریری میں تھے، جو درحقیقت ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ چھوٹا عارف استاد کے پاس بیٹھا تھا، اور وہ ایک نئی کتاب کھول رہے تھے — شاعری کی کتاب۔
"عارف، یہ دیکھو۔ یہ لفظ 'محبت' ہے۔ تمہاری سائنس میں اس کا کوئی فارمولا ہے؟ کوئی ایکویشن؟"
"نہیں استاد جی۔"
"مگر یہی لفظ پہاڑوں کو ہلا سکتا ہے، دریاؤں کا رخ موڑ سکتا ہے۔ سائنس تمہیں 'کیسے' سکھائے گی۔ مگر یہ کتابیں تمہیں 'کیوں' سکھائیں گی۔ دونوں کے بغیر تم ادھورے رہو گے۔"
منظر پھر بدل گیا۔ اب بارش ہو رہی تھی۔ تمام بچے چلے گئے تھے۔ صرف عارف اور استاد رہ گئے تھے۔ عارف روتا ہوا تھا۔ اس کے گھر میں ماں باپ کا جھگڑا ہوا تھا۔
"وہ... وہ ایک دوسرے سے بات ہی نہیں کرتے، استاد جی۔"
استاد نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ "بعض اوقات، الفاظ ختم ہو جاتے ہیں، عارف۔ تب خاموشی بولتی ہے۔ تمہاری ماں باپ کی خاموشی بھی ایک کہانی ہے۔ شاید وہ اس کا آخر خود بھی نہیں جانتے۔ تمہارا کام ان کی کہانی کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے، نہ کہ اسے بدلنے کی۔ یہ کتاب لو۔"
یہ ایک اور کتاب تھی، قصوں کی۔ "اس میں ایک ایسے بادشاہ کی کہانی ہے جس کے پاس سب کچھ تھا مگر وہ خوش نہیں تھا۔ کیونکہ اس نے کبھی کسی کی کہانی نہیں سنی تھی۔"
منظر تیزی سے بدلنے لگے۔ ہر ہفتے ایک نئی کتاب۔ فلسفہ، تاریخ، مذہب، شاعری، یہاں تک کہ پکانے کی ترکیبوں کی کتابیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ایک سبق۔ ہر سبق کے ساتھ ایک نئی سمجھ۔
پھر وہ منظر آیا جب عارف دسویں جماعت میں تھا۔ اس نے استاد کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا، "استاد جی، میں سائنس کا مضامین لے رہا ہوں۔ میرے پاس اب ان 'فضول' کتابوں کے لیے وقت نہیں ہے۔"
استاد کا چہرہ غمگین ہوا۔ مگر انہوں نے کوئی روکا ٹوکی نہیں کی۔ بس اتنا کہا، "ٹھیک ہے بیٹا۔ تمہاری مرضی۔ مگر یاد رکھنا، جب تمہیں ان کتابوں کی ضرورت پڑے گی، یہ کتب خانہ تمہارا انتظار کرے گا۔"
اور پھر عارف کتابیں چھوڑتا چلا گیا۔ وہ سائنس میں مصروف ہو گیا۔ پھر کمپیوٹر سائنس۔ پھر نوکری۔ پھر ترقی۔ زندگی ایک دوڑ بن گئی، جس میں کتابوں کی خوشبو کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔
ٹیپ سے رابطہ ٹوٹ گیا۔ عارف دوبارہ کتب خانے میں کھڑا تھا، آنکھوں میں آنسو۔ اس نے اب تک کی پوری زندگی محسوس کی — خالی، یک طرفہ، جیسے ایک درخت جس کی جڑیں کٹ چکی ہوں۔
محافظ نے نرمی سے کہا، "تمہارا استاد تمہیں یہیں چھوڑ گیا تھا۔ اس دن سے، تمہارا 'بیج' یہاں پڑا تھا، انتظار کر رہا تھا کہ تم واپس آؤ گے اور اسے اپنے ساتھ لے جاؤ گے۔"
"مگر میں... میں بہت دیر کر چکا ہوں۔" "دیر کبھی نہیں ہوتی علم کے سفر میں۔ بس سفر رک جاتا ہے۔ اب تمہیں اسے دوبارہ شروع کرنا ہے۔"
محافظ نے عارف کو ایک خالی سی ٹیپ دی۔ "یہ تمہاری ہے۔ اب تم اس میں اپنے نئے سبق بھر سکتے ہو۔"
"کیسے؟" "جاؤ۔ اپنے استاد کے گھر۔ ان کی لائبریری دیکھو۔"
عارف استاد کے گھر واپس آیا۔ منظور حسین نے اسے ایک کمرے کی چابی دی۔ کمرہ ایک چھوٹی سی لائبریری تھا۔ ہزاروں کتابیں، پرانی، نئی۔ ہر کتاب پر استاد کا ہاتھ سے لکھا ہوا نوٹ چپکا ہوا تھا، جس میں لکھا تھا کہ یہ کتاب کس شاگرد کے لیے ہے۔ ایک پورے شیلف پر لکھا تھا: "عارف احمد کے لیے — جب وہ واپس آئے۔"
عارف کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے ایک کتاب اٹھائی — خلیل جبران کا "نبی"۔ اوپر استاد کی لکھائی: "عارف، جب تم محبت کی تعریف ڈھونڈو گے، یہاں آؤ گے۔ — اشفاق"
دوسری کتاب: "سائنس اور انسانیت"۔ نوٹ: "جب تم پوچھو گے کہ 'کیوں'۔"
تیسری کتاب: "اپنے اندر کی آواز"۔ نوٹ: "جب تم خود سے بھٹک جاؤ گے۔"
عارف ان کتابوں کو اپنے ساتھ لے آیا۔ اس نے اپنی جدید، سادہ سی پینٹ ہاؤس میں ایک کونہ لائبریری کے لیے مختص کیا۔ اس نے استاد کی کتابیں وہاں رکھیں۔ اور پھر، رات کو، جب شہر سوتا تھا، وہ ایک کتاب کھولتا۔
پہلی کتاب کے پہلے صفحے پر اس نے لکھا: "پہلا سبق: میں کچھ نہیں جانتا۔ تاریخ: ۱ فروری ۲۰۲۶۔"
اور جیسے ہی اس نے یہ لکھا، اسے ایک خوشبو محسوس ہوئی — وہی خوشبو، پرانی کتابوں، بارش کی مٹی اور دودھ کی ملائی کی۔ یہ خوشبو اس کے کمرے میں بھر گئی۔ اس نے اپنے ہاتھ میں ٹیپ کو محسوس کیا، جو اب ہلکی سی گرم تھی اور اس میں ایک نیا، چمکدار نقطہ نمودار ہو گیا تھا۔
عارف نے اپنی کمپنی میں تبدیلیاں کیں۔ اس نے ملازمین کے لیے ایک لائبریری بنائی، جہاں ہر ہفتے کتابوں پر بات ہوتی۔ اس نے اسکولوں میں لائبریریوں کے لیے فنڈز دینا شروع کیے۔
ایک دن، اس نے منظور حسین سے کہا، "میں استاد صاحب کی لائبریری کو عوام کے لیے کھولنا چاہتا ہوں۔ ایک چھوٹا سا ریڈنگ روم۔"
منظور نے مسکراتے ہوئے کہا، "نانا کہا کرتے تھے کہ ایک دن عارف یہی کرے گا۔"
عارف اب بھی ایک سافٹ ویئر انجینئر تھا۔ مگر اب وہ ایک 'پڑھنے والا' سافٹ ویئر انجینئر تھا۔ اس نے اپنے کوڈ کے درمیان، کتابوں کے حوالے چھپا دیے۔ اس کے آفس کی میز پر اب کوڈ کی کتابوں کے ساتھ ساتھ رومی کی شاعری بھی پڑی ہوتی۔
اور ہر مہینے کی پندرہ تاریخ کو، وہ چاندنی چوک جاتا، ببول کے درخت کے نیچے چابی ڈالتا، اور نیچے اتر جاتا۔ وہ محافظ سے ملتا، اپنی ٹیپ دکھاتا جس میں نئے سبق بھرے ہوتے، اور ایک نئی کتاب کا انتخاب کرتا جسے استاد نے اس کے لیے چھوڑا تھا۔
ایک دن، محافظ نے اسے ایک نئی الماری دکھائی۔ اس پر لکھا تھا: "عارف احمد — اپنے شاگردوں کے لیے۔" "یہ تمہاری ہے،" محافظ نے کہا۔ "اب تم سیکھنے کے ساتھ ساتھ، سکھا بھی رہے ہو۔"
عارف نے اپنی ٹیپ الماری میں رکھی۔ اسے احساس ہوا کہ علم کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسی میراث ہے جو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ اور ہر کتاب، ہر سبق، ہر یاد کا بیج ایک نئے درخت کا وعدہ ہے، جو کسی دن کسی اور کے لیے سایہ بنے گا۔
اور اس نے محسوس کیا کہ استاد اشفاق الحق کبھی مرے نہیں تھے۔ وہ ہر کتاب کے اوراق میں، ہر سبق کے الفاظ میں، ہر اس شخص کی سمجھ میں زندہ تھے جس نے کبھی سچے دل سے سیکھا یا سکھایا۔ موت صرف ایک باب کا اختتام تھی، مگر کہانی جاری تھی۔ اور یہ کہانی، کتابوں کی خوشبو کی طرح، ہوا میں تیرتی رہتی ہے، ہمیشہ کے لیے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی علم کے دو رخوں — سائنس/ٹیکنالوجی اور انسانیت/ادب — کے درمیان توازن کی تلاش کی عکاس ہے۔ ہم اکثر عملی کامیابیوں کے پیچھے دوڑتے ہوئے اپنی روحانی اور فکری غذا کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ استاد اشفاق الحق کا کردار اس حقیقی معلم کی نمائندگی کرتا ہے جو صرف نصاب نہیں، بلکہ زندگی کا نصاب پڑھاتا ہے۔ 'بے نام کتب خانہ' ایک علامت ہے ان تمام گمشدہ اسباق کا جو ہم روزمرہ کی دوڑ میں بھول جاتے ہیں۔ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی علم صرف ڈگریوں یا کمائی میں نہیں، بلکہ خود شناسی، ہمدردی اور حکمت میں ہے۔ یہ ہمیں اس بات پر بھی غور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کا کس قدر احسان مند ہیں، جو ہمارے مستقبل کے لیے بیج بو کر خاموشی سے چلے جاتے ہیں۔ آخر میں، یہ کہانی امید دیتی ہے کہ سیکھنے کا سفر کبھی بند نہیں ہوتا؛ ہر عمر، ہر مرحلے پر ہم اپنے ادھورے سبق مکمل کر سکتے ہیں۔ کتابیں صرف کاغذ اور روشنائی نہیں، بلکہ زندہ روحیں ہیں جو وقت اور موت کو بھی فتح کر لیتی ہیں۔
— اختتام —