ساتویں رسی
رشیدہ کے ہاتھ تھک چکے تھے۔ رنگین سوتی دھاگے اس کی انگلیوں پر چھالے ڈال چکے تھے، مگر وہ نہ رُکی۔ سامنے کھڑے دستے (loom) پر پھیلا ہوا ادھورا قالین ایک پہیلی کی مانند تھا — چھ رسیوں (شٹس) سے بنا ہوا، ہر ایک ایک مختلف رنگ، ایک پیچیدہ جیومیٹرک نمونہ بناتا ہوا۔ مگر درمیان میں ایک خالی پٹی تھی، جہاں نمونہ رک جاتا تھا، بے ربط، ادھورا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں 'ساتویں رسی' جانی تھی۔
اور رشیدہ کو نہیں پتا تھا کہ ساتویں رسی کیا ہے۔
اس کی ماں، عنایت بی بی، اپنے کمرے میں لیٹی تھیں، ان کی سانسیں آہستہ اور بھاری تھیں۔ ڈاکٹر نے کہا تھا وقت کم ہے۔ انہوں نے رشیدہ کو اپنے پاس بُلایا تھا اور اپنی کمزور انگلی سے کھڑکی کی طرف اشارہ کیا تھا، جہاں گیرواہ (سٹور روم) کا تالا لگا تھا۔
"اس میں... میرا دستہ ہے۔ اور ایک ادھورا قالین۔ تمہیں اسے مکمل کرنا ہے۔" "امی، میں... میں قالین نہیں بُنتی۔" رشیدہ نے کہا، حیران۔ وہ تو کراچی میں فیشن ڈیزائننگ کی طالبہ تھی، پرانی دستکاری میں اس کی کوئی دلچسپی نہ تھی۔ "تمہیں کرنا پڑے گا،" عنایت بی بی کی آواز میں ایک عجیب سختی تھی۔ "ساتویں رسی کے بغیر، یہ قالین بے کار ہے۔ اور تمہیں ساتویں رسی وہیں سے ملے گی... جہاں سے میں نے پائی تھی۔"
اور پھر انہوں نے ایک نام بتایا: "چکوال کا پرانا جنگل۔ وہ جگہ جہاں تین پہاڑ ملتے ہیں۔ وہاں ایک بوڑھی عورت رہتی ہے... وہ تمہیں بتائے گی۔"
یہ کوئی منطقی بات نہیں تھی۔ مگر ماں کی آخری خواہش۔ رشیدہ کے پاس چارہ نہ تھا۔
اس نے گیرواہ کا تالا توڑا — ماں نے چابی نہیں دی تھی۔ اندر دھول تھی، اور پرانا دستہ، لکڑی پر وقت کی کھرونچیں ثبت تھیں۔ ادھورا قالین اب بھی اس پر چڑھا ہوا تھا، جیسے کوئی کہانی جو آدھی رہ گئی ہو۔ قالین کے کنارے پر ہاتھ سے کڑھائی کیا ہوا ایک جملہ تھا: "ہر دل میں سات دروازے ہوتے ہیں، ساتویں میں روشنی ہوتی ہے۔"
رشیدہ نے ماں کی پرانی ڈائریاں تلاش کیں، شاید کوئی سراغ ملے۔ ایک ڈائری میں اس نے ایک نقشہ پایا، ہاتھ سے بنایا ہوا، چکوال کے جنگل کی طرف اشارہ کرتا ہوا۔ اور ایک پرانا سیاہ سفید فوٹو — ایک جوان لڑکی، عنایت بی بی، اسی دستے پر کام کرتی ہوئی، اور ایک بوڑھی عورت اس کے پیچھے کھڑی، ہاتھ اس کے کندھے پر۔
چند دن بعد، عنایت بی بی کی حالت زیادہ خراب ہو گئی۔ وہ ہوش میں کم ہی رہتیں۔ رشیدہ نے فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی چھوٹی بہن سے ماں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالی، اور بس پکڑ کر چکوال کی طرف نکل پڑی۔
سفر طویل تھا۔ شہر کی عمارتیں دیہاتوں میں بدلیں، پھر دیہات پہاڑی راستوں میں۔ چکوال کا پرانا جنگل اب ایک قومی پارک تھا، مگر اس کا ایک حصہ ابھی بھی اصلی جنگل تھا۔ رشیدہ نے مقامی لوگوں سے پوچھا: "تین پہاڑوں والی جگہ کہاں ہے؟"
ایک بوڑھے چرواہے نے اسے ایک تنگ پگڈنڈی دکھائی۔ "مگر احتیاط کرنا۔ وہاں راستہ بدلتا ہے۔ اور... وہاں ایک بزرگہ رہتی ہیں۔ وہ ہر کسی سے نہیں ملتیں۔"
پگڈنڈی پر چلتے ہوئے، رشیدہ کو احساس ہوا کہ یہ صرف ایک راستہ نہیں تھا۔ درختوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے نشان تھے — پتھروں پر بنے ہوئے نقوش، وہی جیومیٹرک نمونے جو اس کے قالین میں تھے۔ یہ ایک طرح کا خفیہ راستہ تھا۔
شام ہوتے ہوتے، وہ تین پہاڑوں کے سنگم پر پہنچی۔ وہاں ایک چھوٹی سی جھیل تھی، اور اس کے کنارے ایک جھونپڑی۔ جھونپڑی کے سامنے ایک بوڑھی عورت بیٹھی تھی، اپنے ہاتھوں میں کچھ گوندھ رہی تھی۔ اس کے بال بالکل سفید تھے، چہرے پر گہری جھریاں، مگر آنکھیں چمکدار تھیں، جوانوں جیسی۔
"تم آ گئی ہو،" بوڑھی عورت نے بغیر مڑے کہا۔ "عنایت کی بیٹی۔" "آپ... آپ جانتے ہیں؟" "میں جانتی تھی کہ ایک دن تم آؤ گی۔ تمہاری ماں نے کہا تھا۔" بوڑھی عورت نے مڑ کر دیکھا۔ "میں حنا ہوں۔"
رشیدہ نے فوٹو یاد کیا — یہ وہی عورت تھی۔ "میں... مجھے ساتویں رسی چاہیے۔ میری ماں بیمار ہیں۔ انہوں نے کہا آپ بتائیں گی۔"
حنا نے مسکرایا، جیسے کسی اندرونی بات پر مسکرا رہی ہوں۔ "ساتویں رسی؟ وہ کوئی چیز نہیں جو میں تمہیں دے دوں۔ وہ وہ چیز ہے جو تم خود ڈھونڈو گی۔ آؤ، بیٹھو۔"
حنا نے رشیدہ کو جھونپڑی میں بلایا۔ اندر قالینوں سے بھرا ہوا تھا — ہر ایک حیرت انگیز نمونوں والا، رنگ ایسے کہ رشیدہ کی سانس رک گئی۔ یہ وہ رنگ تھے جو فطرت سے لیے گئے تھے — برگد کے پتے کا پیلا، شام کے آسمان کا جامنی، جنگلی پھولوں کا نارنجی۔
"تمہاری ماں نے یہاں سیکھا تھا،" حنا نے کہا، ایک قالین کو ہاتھ لگاتے ہوئے۔ "وہ صرف پندرہ سال کی تھی جب وہ یہاں آئی تھی۔ اس کا خاندان قالین بنانے والا تھا، مگر وہ کچھ نیا سیکھنا چاہتی تھی۔ اس نے ہمارے قبیلے کا راز سیکھا — ساتویں رسی کا راز۔"
"یہ راز کیا ہے؟" "ہماری روایت میں، ہر چیز چھ عناصر سے بنی ہے: مٹی، پانی، ہوا، آگ، لکڑی، دھات۔ مگر ساتواں عنصر ہے — روح۔ جس طرح جسم ان چھ چیزوں سے بنا ہے، مگر اس میں زندگی تب آتی ہے جب روح آتی ہے۔ قالین بھی ایسا ہی ہے۔ چھ رسیوں سے تم خوبصورت نمونے بنا سکتے ہو، مگر وہ صرف دیکھنے کے لیے ہوتا ہے۔ ساتویں رسی اس میں روح ڈالتی ہے۔ یہ قالین کو بولتا ہے، گاتا ہے، کہانی سناتا ہے۔"
رشیدہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ "یہ رسی کس چیز کی بنی ہوتی ہے؟"
"یہ کسی چیز کی نہیں بنی ہوتی،" حنا نے کہا۔ "یہ بنائی جاتی ہے۔ اپنے تجربے سے، اپنے درد سے، اپنی خوشی سے، اپنی یادوں سے۔ ہر عورت کی ساتویں رسی مختلف ہوتی ہے۔ تمہاری ماں نے اپنی رسی بنائی تھی... اور اب تمہیں اپنی بنانی ہے۔"
حنا نے رشیدہ کو ایک ہفتے کے لیے ٹھہرنے کو کہا۔ ہر روز، وہ اسے جنگل میں لے جاتی، اسے فطرت کے رنگ دکھاتی — کس طرح صبح کی شبنم رنگ بدلتی ہے، کس طرح پتھر پر لائکن (lichen) رنگ بناتا ہے۔ وہ اسے بتاتی کہ کس طرح ہر نمونہ ایک کہانی ہے — زگ زیگ لائن دریا کی کہانی ہے، مثلث پہاڑوں کی، دائرہ زندگی اور موت کا چکر۔
"تمہاری ماں نے جو قالین شروع کیا ہے، وہ اس کی زندگی کی کہانی ہے۔ چھ رسیاں اس کے چھ باب ہیں: بچپن، جوانی، محبت، نقصان، جدائی، انتظار۔ ساتویں رسی وہ باب ہے جو تم لکھ رہی ہو — بخشش، یا پھر نیا آغاز۔"
ایک رات، آگ کے گرد بیٹھے، حنا نے عنایت بی بی کی کہانی سنائی۔ "تمہاری ماں بہت ہنرمند تھی۔ اس نے ساتویں رسی بنانی سیکھ لی تھی۔ اس نے ایک قالین بنایا تھا جو واقعی بولتا تھا — جب تم اسے چھوتے، تو تم جنگل کی آوازیں سنتے، ہوا کی سرسراہٹ محسوس کرتے۔ اس نے اس قالین کو شہر میں بیچنے کا فیصلہ کیا، تاکہ اپنے گاؤں کے لیے ایک اسکول بنا سکے۔ مگر شہر کے ایک تاجر نے اسے دھوکا دیا۔ اس نے قالین کو سستے داموں خرید لیا، اور پھر اسے ایک بڑے ہوٹل میں مہنگے داموں بیچ دیا۔ تمہاری ماں ٹوٹ گئی۔ اس نے قسم کھائی کہ کبھی ساتویں رسی نہیں بنائے گی۔ اور اس نے اپنا ہنر چھوڑ دیا۔ پھر شادی ہوئی، تمہارے والد سے، اور تمہاری پیدائش۔ مگر وہ ہنر... وہ اس کے اندر مرتا رہا۔"
رشیدہ نے آنسوؤں کو روکا۔ اسے یاد آیا کہ کس طرح اس کی ماں ہمیشہ خاموش رہتی تھیں، کبھی اپنے ماضی کے بارے میں بات نہیں کرتی تھیں۔
"اب،" حنا نے کہا، "وہ چاہتی ہیں کہ تم وہ قالین مکمل کرو۔ وہ چاہتی ہیں کہ تم اس راز کو سنبھالو، جو انہوں نے چھپا رکھا تھا۔"
ہفتے کے آخر میں، حنا نے رشیدہ کو ایک چھوٹا سا تھیلا دیا۔ "یہ لو۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن سے تم اپنی ساتویں رسی بنا سکتی ہو۔ اب تمہیں واپس جانا ہے، اور خود ہی تلاش کرنی ہے۔"
رشیدہ گاؤں واپس آئی۔ ماں اب ہوش میں نہیں تھیں، بس ہلکی سی سانسیں لے رہی تھیں۔ رشیدہ نے دستے کے سامنے بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
تھیلا کھولا۔ اندر تھا: جنگل سے ایک سوکھا پتہ، ایک چھوٹا سا چمکدار پتھر، ایک پرندے کا پر، ایک ڈوری جس میں گانٹھیں پڑی تھیں، اور ایک خالی کاغذ کا ٹکڑا۔
رشیدہ سمجھ گئی۔ اسے اپنی زندگی کے تجربات، اپنی یادیں اس میں شامل کرنی تھیں۔
پہلے دن، اس نے محسوس کیا کہ وہ کچھ نہیں کر پا رہی۔ اس کے ہاتھ قالین کی زبان نہیں جانتے تھے۔ وہ رو پڑی۔ آنسوؤں کی ایک بوند قالین پر گری، اور جہاں گری، وہاں کا رنگ ہلکا سا بدل گیا۔ اسے ایک خیال آیا۔
اس نے اپنے آنسو اس خالی کاغذ پر ٹپکائے۔ پھر اس نے اپنی انگلی کاٹ کر ایک قطرہ خون ٹپکایا — اپنی محبت کی علامت۔ پھر اس نے پرندے کے پر کو اپنے ہونٹوں سے چھوا — اپنی خواہش کی علامت۔ پھر اس نے گانٹھ والی ڈوری کو کھولا، ہر گانٹھ ایک مشکل وقت کی یاد دلاتی — اور پھر اسے سیدھا کیا۔ بخشش۔
اس نے ان تمام چیزوں کو ایک مرکب میں ملا کر ایک نئی دھاگے جیسی چیز بنائی — نہ روئی کی، نہ سوتی کی، نہ ریشمی۔ یہ شفاف تھی، مگر جب روشنی پڑتی تو وہ تمام رنگ چمک اٹھتے۔ یہ تھی ساتویں رسی۔
اب اسے نمونہ سمجھنے کی ضرورت تھی۔ اس نے ماں کے ادھورے قالین کو دیکھا۔ چھ رسیوں کے نمونے اب اسے کہانیاں سنانے لگے۔
پہلی رسی (نیلی): بچپن کی بے فکری، دریاؤں کے کنارے کھیلتا ہوا۔ دوسری رسی (سبز): جوانی کی امیدیں، جنگل کی طرح ہری بھری۔ تیسری رسی (سرخ): محبت کا جذبہ، شعلے کی مانند۔ چوتھی رسی (سیاہ): نقصان کا دھواں، اندھیرا۔ پانچویں رسی (بھوری): جدائی کی تنہائی، مٹی کی طرح۔ چھٹی رسی (زرد): انتظار کی دھوپ، دن بہ دن گزرتے۔
اور اب اسے ساتویں رسی — ارغوانی (purple) — جو ان سب کا مرکب ہو، روشنی اور اندھیرے کا، غم اور امید کا۔ اس نے اپنی بنائی ہوئی رسی کو دستے میں ڈالا، اور بُننا شروع کیا۔
جیسے جیسے وہ بُنتی گئی، اسے محسوس ہونے لگا جیسے وہ صرف دھاگے نہیں جوڑ رہی، بلکہ وقت کے ٹکڑے جوڑ رہی ہے۔ اسے اپنی ماں کی کہانی محسوس ہونے لگی — اس کی ہنسی، اس کا درد، اس کی خاموشی۔ وہ بُنتی گئی، دن رات۔ کھانا پینا بھول گئی۔
ساتویں دن کی صبح، جب آخری گانٹھ لگائی، ایک عجیب سی چمک قالین سے نکلتی محسوس ہوئی۔ قالین مکمل ہو چکا تھا۔ نمونہ اب ایک حیرت انگیز مینڈلہ (mandala) تھا، جو مرکز سے پھیلتا ہوا، ہر رنگ دوسرے میں ملتا ہوا۔ اور جب رشیدہ نے اسے چھوا، تو اسے ایک نرم گنگناہٹ محسوس ہوئی، جیسے دور کوئی راگ بج رہا ہو۔
وہ قالین لے کر ماں کے کمرے میں گئی۔ عنایت بی بی کی آنکھیں بند تھیں۔ رشیدہ نے قالین ان کے بستر پر پھیلا دیا۔
ماں کی آنکھیں کھل گئیں۔ انہوں نے قالین کی طرف دیکھا، اور پھر رشیدہ کی طرف۔ ان کی آنکھوں میں ایک چمک لوٹ آئی، جوانی کی سی۔ انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور قالین کو چھوا۔
اور پھر ایک معجزہ ہوا۔ قالین سے روشنی کی ایک لہر نکلی، جو کمرے میں پھیل گئی۔ رشیدہ نے دیکھا — وہ تصویریں دیکھیں جو روشنی میں بن رہی تھیں۔ ایک جوان عنایت جنگل میں دوڑتی ہوئی۔ وہ دستے پر بیٹھی ہوئی، حنا کے ساتھ ہنستی ہوئی۔ وہ پہلی بار اپنا بنایا ہوا بولتا قالین دیکھتی ہوئی۔ پھر دھوکہ، آنسو۔ پھر شادی، ایک نیا گھر۔ پھر ایک چھوٹی سی بچی — رشیدہ — کو گود میں لیے ہوئے۔ پھر سالوں کی خاموشی۔ اور آخر میں، ایک جوان عورت — رشیدہ — جنگل کا سفر کرتی ہوئی، اور پھر قالین بُنتی ہوئی۔
یہ سب عنایت بی بی کی زندگی تھی، جو قالین میں قید تھی، اب آزاد ہو رہی تھی۔
عنایت بی بی نے رشیدہ کا ہاتھ تھاما۔ ان کی آواز واضح اور مضبوط تھی۔ "تم نے کر دکھایا۔ تم نے ساتویں رسی ڈھونڈ لی۔ اب یہ ہنر تمہارے ساتھ رہے گا۔ اور یاد رکھنا... یہ صرف قالین بنانے کا ہنر نہیں۔ یہ زندگی کو بُننے کا ہنر ہے۔ ہر مشکل، ہر خوشی ایک دھاگا ہے۔ اور تم ہو جو انہیں ایک خوبصورت نمونے میں بدل سکتی ہو۔"
وہ مسکرائیں۔ "میں اب جا سکتی ہوں۔ میں مکمل ہو چکی ہوں۔"
اور اسی رات، ایک پر سکون نیند میں، عنایت بی بی چل بسیں۔
رشیدہ نے ماتم کے بعد، فیصلہ کیا۔ اس نے کراچی واپس جانے کی بجائے، گاؤں میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی ماں کے گھر کو اچھی طرح سے 'عنایت ہنر گھر' میں تبدیل کیا — ایک چھوٹا سا اسکول جہاں وہ مقامی لڑکیوں کو قالین بنانا سکھاتی، نہ صرف چھ رسیوں کا ہنر، بلکہ ساتویں رسی کا راز بھی۔
اس نے اپنی فیشن ڈیزائننگ کی ڈگری کو بھی ضائع نہیں ہونے دیا۔ اس نے جدید ڈیزائنوں میں پرانے نمونوں کو شامل کیا۔ اس نے ایک آن لائن پلیٹ فارم بنایا، جہاں وہ ان قالینوں کو بیچتی، ہر ایک کے ساتھ اس کی کہانی، اس میں استعمال ہونے والی ساتویں رسی کا ذکر ہوتا۔
ایک سال بعد، حنا جنگل سے اسے ملنے آئیں۔ انہوں نے رشیدہ کے بنائے ہوئے قالینوں کو دیکھا، اور مسکرائیں۔ "تمہاری ماں فخر کر رہی ہوں گی۔"
اور پھر حنا نے اسے ایک اور راز بتایا۔ "ساتویں رسی صرف شروع ہے۔ آٹھویں رسی بھی ہوتی ہے — وہ جو دوسروں کی کہانیوں سے بنتی ہے۔"
اب رشیدہ نہ صرف اپنی کہانی بُنتی ہے، بلکہ وہ ان لڑکیوں کی کہانیاں بھی بُنتی ہے جو اس کے پاس آتی ہیں — ایک بیوہ کی ہمت کی کہانی، ایک نوجوان لڑکی کے خوابوں کی کہانی، ایک بوڑھی ماں کی یادیں۔ ہر قالین ایک زندگی کا ایک ٹکڑا بن جاتا ہے، جو کسی اور کے گھر میں امید اور خوبصورتی لے کر جاتا ہے۔
اور جب رات کو، رشیدہ اکیلی دستے کے سامنے بیٹھتی ہے، تو اسے محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی ماں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، اسے بتا رہی ہیں کہ کون سا رنگ استعمال کرنا ہے، کس طرح گانٹھ لگانا ہے۔ اور بعض اوقات، جب چاندنی چمکتی ہے، تو قالین سے وہی گنگناہٹ آتی ہے — زندگی کی موسیقی، جو موت کو بھی شکست دے دیتی ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ثقافتی ورثے، ہنر اور جذبات کی وراثت کے بارے میں ہے۔ ہر نسل کچھ نہ کچھ اپنے ساتھ لے کر آتی ہے اور کچھ نہ کچھ آگے بڑھاتی ہے۔ 'ساتویں رسی' تخلیقی عمل میں وہ ناقابل بیان، روحانی جزو ہے جو کسی فن کو محض ہنر سے بلند کر کے 'آرٹ' بنا دیتا ہے — وہ جذبہ، تجربہ اور وجود جسے فنکار اپنے کام میں شامل کرتا ہے۔ کہانی اس بات کی بھی عکاس ہے کہ ہم اکثر اپنے بزرگوں کے ہنر اور دانش کو 'پرانی' یا 'غیر مفید' سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، مگر ان میں زندگی کے گہرے سبق چھپے ہوتے ہیں۔ عنایت بی بی کا کردار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ناکامی یا دھوکے سے مایوس ہو کر اپنا ہنر، اپنا جذبہ چھوڑ دینا دراصل اپنی روح کا ایک حصہ مار دینا ہے۔ رشیدہ کا سفر ہمیں بتاتا ہے کہ سچی کامیابی اور تکمیل اکثر اپنی جڑوں کی طرف واپس لوٹنے اور انہیں نئے سرے سے سمجھنے میں ملتی ہے۔ آخر میں، یہ کہانی اس تصور کو بھی پیش کرتی ہے کہ محبت اور فن دونوں ہی موت پر فتح پا سکتے ہیں، کیونکہ وہ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو کر ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
— اختتام —