جو مضبوط نظر آتے ہیں، وہی سب سے زیادہ ٹوٹے ہوتے ہیں
ارسلان کو لوگ
“بہت مضبوط” کہتے تھے۔
مسئلہ ہو؟
ارسلان ہے۔
گھر کا خرچ؟
ارسلان سنبھال لے گا۔
دوست ٹوٹ جائے؟
ارسلان سن لے گا۔
وہ ہمیشہ موجود تھا۔
کیونکہ اس نے سیکھ لیا تھا
کہ ضرورت بن جانا
محبت کا سب سے آسان طریقہ ہے۔
بچپن سے۔
جب والد بیمار پڑے،
تو ارسلان نے اسکول کے بعد
کام شروع کر دیا۔
جب ماں روئی،
تو اس نے اپنے آنسو
اندر پی لیے۔
جب بہن نے کہا:
“بھائی، آپ ہیں نا”
تو وہ مسکرا دیا۔
کوئی نہیں جانتا تھا
کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے
کتنی تھکن تھی۔
وقت گزرتا گیا۔
ارسلان بڑا ہو گیا۔
ذمہ داریاں بڑھ گئیں،
مگر کمزوری کی اجازت
کبھی نہیں ملی۔
اگر وہ کہتا:
“میں تھک گیا ہوں”
تو جواب ملتا:
“تم ہی تو مضبوط ہو۔”
یہ جملہ
تعریف نہیں تھا —
زنجیر تھا۔
وہ بیمار پڑتا
تو بھی کام پر جاتا۔
وہ اداس ہوتا
تو بھی دوسروں کو ہنساتا۔
کیونکہ اگر وہ ٹوٹ جاتا،
تو سب گر جاتے۔
ایک رات
وہ چھت پر بیٹھا تھا۔
شہر جگمگا رہا تھا،
مگر اس کے اندر
اندھیرا تھا۔
اس نے خود سے پوچھا:
“اگر میں بھی گر گیا
تو مجھے کون اٹھائے گا؟”
جواب میں
خاموشی تھی۔
اسے پہلی بار احساس ہوا
کہ مضبوط ہونا
اکیلا کر دیتا ہے۔
کیونکہ لوگ
مضبوط کندھوں پر
اپنا بوجھ رکھتے ہیں،
یہ نہیں پوچھتے
کہ وہ کندھے
کتنا سہہ سکتے ہیں۔
کچھ دن بعد
ارسلان بیمار پڑا۔
اس بار
واقعی۔
ڈاکٹر نے کہا:
“ذہنی تھکن جسم پر آ گئی ہے۔”
یہ سن کر
وہ ہنس پڑا۔
کیونکہ اس نے
کبھی ذہن کا خیال
رکھا ہی نہیں تھا۔
وہ اسپتال کے بستر پر لیٹا
اور پہلی بار
کسی کو فون نہیں کیا۔
کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا
کہ مدد کیسے مانگی جاتی ہے۔
کچھ دن بعد
اس نے ایک چھوٹا سا قدم اٹھایا۔
اس نے ایک دوست سے کہا:
“آج میں ٹھیک نہیں ہوں۔”
دوست خاموش رہا،
پھر بولا:
“تم بھی انسان ہو۔”
یہ جملہ
ارسلان کے لیے
کافی تھا۔
وہ آہستہ آہستہ
سیکھنے لگا:
کہ ہر وقت مضبوط رہنا
ضروری نہیں۔
کہ مدد مانگنا
کمزوری نہیں۔
اور یہ کہ
جو سب کو سہارا دیتے ہیں،
انہیں بھی
سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- مضبوط نظر آنا، مضبوط ہونا نہیں ہوتا
- مسلسل ذمہ داری انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے
- مدد مانگنا ہمت ہے، بوجھ نہیں
- ہر انسان کو کمزور ہونے کا حق ہے
ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
اگر کوئی شخص کبھی شکایت نہیں کرتا،
تو اس کا مطلب یہ نہیں
کہ اسے تکلیف نہیں ہوتی۔
بلکہ اکثر
وہ صرف
سب کو سنبھالنے میں
خود کو بھول جاتا ہے۔
— اختتام —