ہجوم کے بیچ اکیلا انسان
فراز کے فون میں
نمبروں کی کمی نہیں تھی۔
واٹس ایپ گروپس،
دفتر کے ساتھی،
پرانے دوست،
رشتہ دار۔
ہر وقت
کوئی نہ کوئی پیغام آتا رہتا۔
مگر جب رات کو
وہ بستر پر لیٹتا،
تو دل میں
ایک عجیب سا خلا ہوتا۔
وہ سوچتا:
“اگر میں واقعی کسی کو فون کروں،
تو کون آئے گا؟”
یہ سوال
اکثر بغیر جواب
سو جاتا۔
دفتر میں
وہ ہنستا تھا،
باتیں کرتا تھا،
چائے پر سب کے ساتھ ہوتا تھا۔
لوگ کہتے:
“فراز تو بڑا social ہے۔”
کسی نے نہیں دیکھا
کہ وہ ہنسی
کس قیمت پر آتی ہے۔
سوشل میڈیا پر
اس کی تصویریں تھیں —
مسکراہٹوں کے ساتھ۔
کپشن ہوتے:
“زندگی بہترین ہے۔”
مگر حقیقت یہ تھی
کہ وہ یہ سب
خود کو سمجھانے کے لیے لکھتا تھا۔
وہ ایک دن میں
درجنوں لوگوں سے بات کرتا،
مگر ایک بھی ایسی نہیں ہوتی
جس میں وہ کہہ سکے:
“میں ٹھیک نہیں ہوں۔”
کیونکہ سب مصروف تھے۔
اور مصروف لوگوں کے پاس
دوسروں کی خاموشی کے لیے
وقت نہیں ہوتا۔
فراز کو یاد آیا
کہ بچپن میں
وہ اکیلا نہیں تھا۔
وہ گلی میں کھیلتا،
ہنستا،
جھگڑتا۔
تنہائی تب نہیں تھی۔
یہ تنہائی
بڑی ہو کر آئی تھی۔
جب باتیں رسمی ہو گئیں،
اور احساسات
“اوور ری ایکٹنگ” کہلانے لگے۔
ایک رات
وہ ایک تقریب سے لوٹا۔
ہال بھرا ہوا تھا،
لوگ، آوازیں، موسیقی۔
مگر اسے
وہاں بھی
اکیلا پن محسوس ہوا۔
وہ گاڑی میں بیٹھا
اور پہلی بار
اس کی آنکھوں سے
آنسو نکل آئے۔
وہ رو رہا تھا،
مگر اسے نہیں معلوم تھا
کہ کس بات پر۔
شاید اس بات پر
کہ وہ سب کے درمیان رہ کر بھی
کسی کا نہیں تھا۔
اگلے دن
اس نے ایک چھوٹا سا قدم اٹھایا۔
اس نے ایک پرانے دوست کو
فون کیا۔
بات لمبی نہیں تھی۔
بس اتنی۔
“یار،
آج دل بھاری ہے۔”
دوسری طرف
کچھ لمحے خاموشی رہی،
پھر آواز آئی:
“چلو ملتے ہیں۔”
یہ جملہ
فراز کے لیے
غنیمت تھا۔
اسے احساس ہوا
کہ تنہائی کا علاج
بھیڑ نہیں،
سچائی ہے۔
ایک سچی بات،
ایک حقیقی تعلق،
ایک ایسا لمحہ
جہاں نقاب نہ ہو۔
فراز نے سیکھ لیا
کہ اکیلا پن
کم لوگوں سے نہیں،
کم سمجھنے والوں سے آتا ہے۔
اور کبھی کبھی
صرف ایک انسان
کافی ہوتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہجوم میں ہونا، تنہا نہ ہونے کی ضمانت نہیں
- سوشل میڈیا تعلقات کا نعم البدل نہیں
- اصل کمی سننے والوں کی ہوتی ہے
- سچ بولنے سے ہی تنہائی ٹوٹتی ہے
ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
اگر کوئی شخص
ہمیشہ ہنستا ہے،
ہمیشہ مصروف ہے،
تو ضروری نہیں
کہ وہ اندر سے ٹھیک بھی ہو۔
کبھی کبھی
بس پوچھ لینا ہی کافی ہوتا ہے:
“تم واقعی کیسے ہو؟”
— اختتام —