وہ خواب جو حالات نے مار دیے
سلمان کو بچپن سے
تصویریں بنانے کا شوق تھا۔
وہ دیواروں پر
چاک سے تصویریں بناتا،
کاپیوں کے آخری صفحات
خود سے بھر دیتا۔
استاد کہتے:
“یہ لڑکا کچھ الگ ہے۔”
سلمان مسکرا دیتا۔
اس کے خواب بڑے نہیں تھے،
بس سچے تھے۔
وہ آرٹسٹ بننا چاہتا تھا۔
مگر گھر میں
الفاظ اور تھے۔
“یہ شوق ٹھیک ہے،
مگر پیٹ شوق سے نہیں بھرتا۔”
باپ کی نوکری چھوٹ گئی۔
اور اس دن
سلمان کا خواب
پہلی بار ڈرا۔
اس نے کہا:
“کوئی بات نہیں،
میں بعد میں کر لوں گا۔”
یہ “بعد میں”
بہت لمبا نکلا۔
اس نے پڑھائی بدلی۔
کام شروع کیا۔
گھر کا خرچ سنبھالا۔
اس کی انگلیوں میں
اب پین نہیں،
فائلیں تھیں۔
وقت گزرتا گیا۔
لوگ کہتے:
“سلمان سیٹل ہو گیا ہے۔”
وہ سر ہلا دیتا۔
کسی نے نہیں پوچھا
کہ وہ خوش بھی ہے یا نہیں۔
کبھی کبھی
وہ رات کو
پرانا اسکیچ بک نکالتا۔
خالی صفحات
اسے گھورتے۔
وہ ایک آدھ لائن کھینچتا،
پھر بند کر دیتا۔
کیونکہ اب
ذمہ داریاں
وقت سے زیادہ تھیں۔
ایک دن
اس کے بیٹے نے کہا:
“ابو، مجھے ڈرائنگ اچھی لگتی ہے۔”
سلمان رک گیا۔
اسے لگا
کہ وقت
اس کے سامنے کھڑا ہے۔
اس نے بچے کو
قلم پکڑایا۔
اور پہلی بار
اس کے ہاتھ کانپے۔
اس نے سوچا:
“کاش کوئی مجھے بھی
اس دن کہتا
کہ خواب چھوڑنا
ضروری نہیں۔”
سلمان ناکام نہیں تھا۔
وہ بس
قربان ہو گیا تھا۔
اور قربانیوں پر
تالیاں نہیں بجتیں۔
وہ خاموشی سے
زندگی بناتی ہیں
اور خواب توڑ دیتی ہیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہر ناکامی شور نہیں مچاتی
- حالات اکثر خوابوں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں
- قربانی کو ہم کامیابی کا نام دے دیتے ہیں
- دبے ہوئے خواب نسلوں تک اثر چھوڑتے ہیں
ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
اگر کوئی شخص “سیٹل” نظر آتا ہے،
تو ضروری نہیں
کہ اس نے وہی زندگی جیتی ہو
جو وہ چاہتا تھا۔
کبھی کبھی
وہ بس
زندہ رہنے میں کامیاب ہوا ہوتا ہے۔
— اختتام —