وہ لوگ جو کسی کے لیے خاص نہیں رہے
نعمان کو کبھی یہ شکایت نہیں تھی
کہ لوگ اس سے بدتمیزی کرتے ہیں۔
مسئلہ کچھ اور تھا۔
لوگ اسے
یاد نہیں رکھتے تھے۔
وہ دوستوں کے ساتھ ہوتا،
مگر فیصلے
اس کے بغیر ہوتے۔
اگر کوئی ملنے آتا،
تو آخری آپشن
نعمان ہوتا۔
“اگر کوئی اور نہیں،
تو نعمان آ جائے گا۔”
یہ جملہ
کبھی اس کے سامنے نہیں بولا گیا،
مگر ہر بار
اسے محسوس ہو جاتا۔
نعمان ہر رشتے میں
اپنا پورا حصہ دیتا تھا۔
وقت،
توجہ،
سننا،
سمجھنا۔
وہ دوسروں کے مسئلے
اپنے سے پہلے رکھتا۔
کیونکہ اس نے سیکھ لیا تھا
کہ اگر وہ کارآمد رہا،
تو شاید
اہم بھی بن جائے۔
مگر اہمیت
ہمیشہ شرطوں کے ساتھ آئی۔
جب سب ٹھیک ہوتا،
نعمان غیر ضروری تھا۔
جب سب بکھرتا،
نعمان یاد آتا۔
ایک رات
اس نے اپنا فون دیکھا۔
کئی نمبرز،
کئی چیٹس۔
مگر ایک بھی ایسا نہیں
جسے وہ بلا جھجھک
کہہ سکے:
“مجھے تمہاری ضرورت ہے۔”
یہ احساس
بھاری تھا۔
وہ سوچتا رہا
کہ آخر اس میں
کمی کیا ہے؟
وہ برے الفاظ نہیں بولتا تھا۔
وہ بے وفا نہیں تھا۔
وہ غائب نہیں ہوتا تھا۔
پھر بھی
وہ منتخب نہیں ہوا۔
وقت کے ساتھ
اس نے خود کو
کم کرنا شروع کر دیا۔
کم بولنا،
کم مانگنا،
کم توقع رکھنا۔
کیونکہ توقع
ٹوٹنے کا سب سے تیز راستہ تھی۔
ایک دن
اس نے ایک دعوت میں
خود کو دیکھا۔
وہ سب کے درمیان تھا،
ہنستا بھی تھا۔
مگر اگر وہ
چپ چاپ اٹھ کر چلا جاتا،
تو شاید
کوئی نہ پوچھتا۔
یہ خیال
اسے اندر سے ہلا گیا۔
اسی رات
اس نے ایک فیصلہ کیا۔
وہ سب کے لیے
ہمیشہ دستیاب
نہیں رہے گا۔
وہ اپنی قدر
خود طے کرے گا۔
اس نے کچھ رشتے
خاموشی سے
پیچھے چھوڑ دیے۔
کوئی ڈراما نہیں، کوئی الزام نہیں۔
بس خود کو
پہلی بار
اہم بنایا۔
شروع میں
اکیلا لگا۔
مگر پھر
ہلکا لگا۔
کیونکہ وہ اکیلا تو پہلے بھی تھا —
بس اب
اسے اس کا شعور تھا۔
نعمان نے سیکھا
کہ ہر جگہ ہونا
ضروری نہیں۔
اور ہر کسی کے لیے
خاص بننے کی کوشش
خود سے بے وفائی ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- نظرانداز ہونا ہمیشہ واضح نہیں ہوتا
- کچھ لوگ رشتوں میں صرف سہولت بن جاتے ہیں
- ہر انسان سب کے لیے خاص نہیں ہو سکتا
- اپنی قدر خود طے کرنا سیکھنا پڑتی ہے
ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
اگر آپ ہر رشتے میں
آخری آپشن ہیں،
تو مسئلہ آپ کی قدر میں نہیں —
مسئلہ آپ کے خاموش سمجھوتوں میں ہے۔
کبھی کبھی
اکیلا ہونا
اس سے بہتر ہوتا ہے
کہ آپ وہاں ہوں
جہاں آپ کی کمی
محسوس ہی نہ ہو۔
— اختتام —