← تمام اردو کہانیاں

خاموش طلاق

A married couple sitting back to back on a bed at night, dim light, emotional distance

سعد اور مریم کی شادی
کسی مجبوری کا نتیجہ نہیں تھی۔

محبت تھی۔
باتیں تھیں۔
خواب تھے۔

وہ راتوں کو
گھنٹوں فون پر بات کرتے۔
چھوٹی چھوٹی باتوں پر
ہنستے تھے۔

شادی کے بعد
زندگی آئی۔

اور زندگی
ہمیشہ رومانوی نہیں ہوتی۔

شروع میں
سب نے کہا:
“یہ تو وقت کا مسئلہ ہے۔”

مگر وقت
مسئلہ بنتا گیا۔

سعد کام میں مصروف رہنے لگا۔
مریم گھر میں۔

وہ باتیں
جو پہلے خود بخود ہوتی تھیں،
اب “کہنے” کی محتاج ہو گئیں۔

“آپ سن نہیں رہے۔”
“آپ سمجھ نہیں رہیں۔”

یہ جملے
آہستہ آہستہ
خاموشی میں بدل گئے۔

وہ لڑتے نہیں تھے۔
یہی سب سے خطرناک بات تھی۔

لڑائی میں
ابھی بھی رشتہ ہوتا ہے۔

خاموشی میں
بس دیواریں ہوتی ہیں۔

وہ ایک دوسرے کے لیے
برا نہیں سوچتے تھے۔

بس
سوچتے ہی نہیں تھے۔

مریم کو یاد ہے
وہ دن
جب اس نے خوشی کی خبر سنائی۔

سعد نے کہا:
“بعد میں بات کرتے ہیں۔”

وہ “بعد میں”
کبھی نہیں آیا۔

سعد کو یاد ہے
وہ رات
جب وہ ٹوٹا ہوا گھر آیا۔

مریم نے بس پوچھا:
“کھانا گرم کر دوں؟”

نہ سوال تھا،
نہ فکر۔

بس رسم۔

سال گزر گئے۔

لوگ کہتے:
“ماشاءاللہ، بڑا پرسکون گھر ہے۔”

کسی نے نہیں دیکھا
کہ اس پرسکون گھر میں
کوئی بات نہیں ہوتی تھی۔

ایک دن
مریم نے خود سے سوال کیا:
“اگر میں آج نہ رہوں،
تو کیا فرق پڑے گا؟”

یہ سوال
خوفناک تھا۔

اسی دن
اسے احساس ہوا
کہ وہ شادی شدہ ہے،
مگر شریکِ حیات نہیں۔

سعد بھی
اکثر رات کو سوچتا:
“میں کب اکیلا ہو گیا؟”

مگر وہ دونوں
اس مقام پر آ گئے تھے
جہاں بات شروع کرنا
سب سے مشکل لگتا ہے۔

کیونکہ بات
صرف الفاظ نہیں مانگتی،
ہمت مانگتی ہے۔

ایک شام
وہ آمنے سامنے بیٹھے۔

چائے ٹھنڈی ہو گئی۔

مریم نے کہا:
“ہم کب سے ساتھ ہیں،
مگر ایک ساتھ نہیں۔”

سعد خاموش رہا۔

یہ خاموشی
ان کی سچائی تھی۔

وہ الگ نہیں ہوئے۔

نہ قانونی،
نہ سماجی۔

بس
دلوں میں۔

اور یہی
سب سے تکلیف دہ طلاق ہوتی ہے۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

خاموش طلاق
ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
اگر کسی رشتے میں
آوازیں ختم ہو جائیں،
تو سمجھ لیں
محبت خطرے میں ہے۔

کیونکہ کچھ رشتے
نفرت سے نہیں،
غفلت سے مرتے ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →