← تمام اردو کہانیاں

دھندلا آئینہ

A foggy mirror with a faint reflection of a person, soft morning light, introspective and emotional mood

احمد ہر صبح آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا، مگر آج کل اسے اپنا چہرہ کچھ دھندلا سا لگتا تھا۔
وہ بار بار آئینہ صاف کرتا، ہاتھ سے پونچھتا، مگر عکس واضح نہیں ہوتا۔

اصل میں آئینہ نہیں، احمد کا دل دھندلا گیا تھا۔

چند ماہ پہلے تک وہ ایک پُراعتماد نوجوان تھا۔ اچھی نوکری، دوستوں کا حلقہ، اور مستقبل کے بڑے خواب۔
پھر اچانک کمپنی بند ہو گئی۔ نوکری ختم، معمول ٹوٹ گیا، اور ساتھ ہی اس کا اعتماد بھی۔

گھر والے حوصلہ دیتے،
“سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
مگر احمد کے اندر ایک آواز تھی جو کہتی،
“تم ناکام ہو گئے ہو۔”

وہ باہر جانا کم کر چکا تھا۔ دوستوں سے بات کرنا چھوڑ دیا۔ ہر روز آئینے میں خود کو دیکھتا، اور ہر روز خود سے نظریں چرا لیتا۔

ایک دن اس کی چھوٹی بہن اس کے کمرے میں آئی۔ اس نے دیکھا کہ احمد آئینے کو صاف کر رہا ہے۔
وہ مسکرائی اور بولی،
“بھائی، آئینہ صاف کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، اگر آنکھوں میں یقین نہ ہو۔”

احمد نے چونک کر اسے دیکھا۔
یہ سادہ جملہ اس کے دل میں اتر گیا۔

اسی رات، وہ دیر تک جاگتا رہا۔ اس نے اپنی پرانی کامیابیاں یاد کیں، اپنی محنت کو پہچانا، اور پہلی بار خود سے کہا،
“میں ناکام نہیں ہوں، میں صرف رک گیا ہوں۔”

اگلی صبح، وہ دوبارہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوا۔
آئینہ وہی تھا—
مگر اس بار عکس صاف تھا۔

کیونکہ اس کی نظر بدل گئی تھی۔


معنی اور غور و فکر—

👉 اصل جنگ باہر نہیں، اندر ہوتی ہے۔
👉 خود پر یقین ختم ہو جائے تو سب کچھ دھندلا لگنے لگتا ہے۔
👉 جب ہم اپنی نظر بدل لیتے ہیں، تو دنیا خود بخود بدل جاتی ہے۔

دھندلا آئینہ دراصل ایک اشارہ تھا—
کہ مسئلہ شیشے میں نہیں،
دل کی روشنی میں ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →