← تمام اردو کہانیاں

خاموش استاد

An old teacher sitting alone in a quiet classroom, sunlight coming through windows, calm and reflective mood

گورنمنٹ اسکول کی پرانی عمارت میں ایک کلاس تھی جہاں سب بچے اکثر شور مچاتے تھے۔ مگر جیسے ہی سر یوسف کلاس میں داخل ہوتے، ایک عجیب سی خاموشی چھا جاتی۔

سر یوسف زیادہ بولتے نہیں تھے۔ نہ وہ لمبی تقریریں کرتے، نہ سخت ڈانٹ ڈپٹ۔ وہ بس آتے، تختہ سیاہ پر کچھ لکھتے، اور بچوں کو خود سوچنے دیتے۔

کلاس کے بچے اکثر ان کے طریقے کو سمجھ نہیں پاتے تھے۔ ایک دن ایک طالب علم نے کہا، “سر کچھ سمجھاتے کیوں نہیں؟”

سر یوسف نے مسکرا کر جواب دیا، “اگر میں سب کچھ بتا دوں، تو تم سوچنا چھوڑ دو گے۔”

یہ بات بچوں کے سر سے گزر گئی۔

وقت گزرتا گیا۔ بچے بڑے ہوتے گئے۔ کئی نے سر یوسف کو سخت، عجیب اور کمزور استاد سمجھا۔

سالوں بعد، وہی طالب علم ایک کامیاب انجینئر بن گیا۔ ایک دن وہ اپنے پرانے اسکول آیا۔ کلاس روم ویسا ہی تھا— اور کونے میں سر یوسف بیٹھے تھے، خاموش۔

اس نے جا کر سلام کیا اور کہا، “سر، آپ نے ہمیں کچھ نہیں سکھایا… مگر آج سمجھ آیا کہ آپ نے ہمیں سوچنا سکھایا تھا۔”

سر یوسف نے صرف مسکرا کر سر ہلایا۔

وہ کبھی زیادہ بولے نہیں— مگر ان کی خاموشی نے نسلوں کو بولنا سکھا دیا۔


معنی اور غور و فکر—


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →