وہ لڑکا جو ہمیشہ دیر سے سمجھا
حمزہ ہمیشہ سے لاپرواہ تھا۔
نہ اسے وقت کی قدر تھی، نہ لوگوں کی۔
اس کے دوست اسے “کل پر چھوڑنے والا” کہتے تھے۔
ہر کام، ہر وعدہ، ہر ذمہ داری—
“کل کر لوں گا” اس کا پسندیدہ جملہ تھا۔
اس کی ماں اکثر کہتی،
“بیٹا، وقت ہاتھ سے نکل جائے تو واپس نہیں آتا۔”
حمزہ ہنستا اور کہتا،
“امّی، ابھی تو بہت وقت ہے۔”
اس کے والد سخت مزاج تھے، مگر دل سے نرم۔
وہ چاہتے تھے کہ حمزہ کچھ بنے، کچھ کرے، مگر حمزہ کو سنجیدگی کی عادت نہیں تھی۔
ایک دن اس کے بہترین دوست نے اسے فون کیا،
“یار، آج ملتے ہیں، ضروری بات کرنی ہے۔”
حمزہ نے جواب دیا،
“آج نہیں، کل ملتے ہیں۔”
مگر وہ “کل” کبھی نہیں آیا۔
اسی رات اس کے دوست کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔
یہ خبر حمزہ کے لیے ایک جھٹکا تھی۔
وہ ہسپتال پہنچا، مگر دیر ہو چکی تھی۔
وہ وہیں بیٹھا رہا، خاموش، ساکت۔
اس کے ذہن میں صرف ایک جملہ گونج رہا تھا—
“کل ملتے ہیں…”
پہلی بار، اسے اپنی عادت کا بوجھ محسوس ہوا۔
وقت گزرتا گیا، مگر وہ واقعہ اس کے ساتھ رہا۔
اب وہ ہر چیز کو سنجیدگی سے لینے لگا تھا۔
اگر ماں بلاتیں، وہ فوراً آ جاتا۔
اگر کسی دوست کو ضرورت ہوتی، وہ ٹالنے کے بجائے موجود ہوتا۔
ایک دن اس نے اپنے والد سے کہا،
“ابو، میں نے بہت وقت ضائع کیا ہے…”
والد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا،
“بیٹا، جو وقت گزر گیا، وہ سبق بن جائے تو نقصان نہیں رہتا۔”
حمزہ نے سر ہلایا۔
وہ لڑکا جو ہمیشہ دیر سے سمجھتا تھا—
اب وقت پر جینا سیکھ رہا تھا۔
معنی اور غور و فکر—
👉 “کل” ایک خطرناک لفظ ہو سکتا ہے۔
👉 وقت اور رشتوں کی قدر اسی وقت کرنی چاہیے جب وہ ہمارے پاس ہوں۔
👉 دیر سے سیکھا ہوا سبق بھی قیمتی ہوتا ہے—اگر ہم اسے اپنا لیں۔
حمزہ نے اپنا ماضی نہیں بدلا—
مگر اس نے اپنا آج بدل دیا۔
— اختتام —