آخری بس اسٹاپ
شہر کے ایک مصروف علاقے سے کچھ دور ایک پرانا بس اسٹاپ تھا۔ دن کے وقت وہاں کافی رش رہتا تھا۔ لوگ آتے، جلدی جلدی بسوں میں سوار ہوتے اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہوجاتے۔ لیکن رات کے وقت وہاں ایک عجیب سی خاموشی چھا جاتی تھی۔
اس رات بھی موسم کچھ مختلف تھا۔ شام میں ہلکی بارش ہوئی تھی اور سڑک اب بھی گیلی تھی۔ سڑک کے کنارے لگے زرد بلبوں کی روشنی پانی میں منعکس ہو رہی تھی اور دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آواز خاموشی کو توڑ رہی تھی۔
فراز بس اسٹاپ کی بینچ پر بیٹھا تھا۔
اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ تھا اور چہرے پر تھکن صاف نظر آ رہی تھی۔ پورا دن خراب گزرا تھا۔ دفتر میں اس کے کام پر تنقید ہوئی تھی، اس کا ایک اہم منصوبہ مسترد ہوگیا تھا اور گھر سے بھی فون آیا تھا کہ کچھ مالی مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔
وہ سر جھکائے زمین کو دیکھ رہا تھا۔
اسے لگ رہا تھا جیسے زندگی ہر طرف سے بوجھ بن گئی ہو۔
چند لمحوں بعد ایک بوڑھا آدمی آہستہ آہستہ چلتا ہوا آیا اور اس کے برابر والی بینچ پر بیٹھ گیا۔
اس کے ہاتھ میں ایک پرانا تھیلا تھا اور چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔
کچھ دیر دونوں خاموش رہے۔
پھر بوڑھے آدمی نے سامنے دیکھتے ہوئے پوچھا:
"بیٹا، وقت دیکھ سکتے ہو؟"
فراز نے موبائل نکالا۔
"گیارہ بج کر پندرہ منٹ۔"
بوڑھے آدمی نے ہلکا سا سر ہلایا۔
پھر خاموشی چھا گئی۔
چند لمحوں بعد وہ مسکرا کر بولا:
"انسان عجیب چیز ہے۔ جب خوش ہوتا ہے تو وقت تیزی سے گزر جاتا ہے اور جب پریشان ہو تو ہر منٹ ایک گھنٹے جیسا لگتا ہے۔"
فراز نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ صرف بات نہیں کر رہا بلکہ کچھ سمجھ بھی رہا ہو۔
فراز نے آہستہ سے کہا:
"کبھی کبھی لگتا ہے کہ کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا۔"
بوڑھے آدمی نے اس کی طرف دیکھا۔
"اور کبھی کبھی کیا سب کچھ ہمیشہ خراب رہتا ہے؟"
فراز خاموش ہوگیا۔
وہ جواب ڈھونڈنے لگا مگر کچھ نہ کہہ سکا۔
بوڑھے آدمی نے سامنے خالی سڑک کی طرف اشارہ کیا۔
"دیکھو، بس اسٹاپ پر بیٹھنے والے سب لوگ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ کوئی جلدی میں ہوتا ہے، کوئی پریشان ہوتا ہے، کوئی خوش ہوتا ہے۔ لیکن ایک چیز سب میں مشترک ہوتی ہے۔"
فراز نے پوچھا:
"کیا؟"
بوڑھے آدمی مسکرایا۔
"وہ انتظار کرتے ہیں۔"
فراز خاموشی سے سننے لگا۔
"زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ کبھی ہم اچھی خبر کا انتظار کرتے ہیں، کبھی کسی کامیابی کا، کبھی سکون کا۔ لیکن لوگ اکثر انتظار کے دوران یہ بھول جاتے ہیں کہ راستہ ابھی ختم نہیں ہوا۔"
اسی لمحے دور سے ایک بس کی روشنی دکھائی دی۔
بوڑھا آدمی آہستہ سے کھڑا ہوگیا۔
فراز نے پوچھا:
"آپ روز یہاں آتے ہیں؟"
بوڑھے آدمی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"کبھی کبھی۔"
بس آکر رکی۔
وہ سوار ہوگیا۔
فراز چند لمحوں تک اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔
پھر اچانک اسے احساس ہوا کہ وہ اس آدمی کا نام پوچھنا بھی بھول گیا تھا۔
بس دور جاتی گئی۔
اور پہلی بار پورے دن میں فراز نے اپنے دل کا بوجھ کچھ ہلکا محسوس کیا۔
اس نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔
بادل اب آہستہ آہستہ چھٹ رہے تھے۔
کچھ ستارے نظر آنے لگے تھے۔
اس رات اسے لگا کہ شاید ہر مسئلہ ہمیشہ نہیں رہتا۔
بعض اوقات انسان صرف اپنی اگلی "بس" آنے سے پہلے ہمت ہارنے لگتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
ہم زندگی میں اکثر مشکل وقت کو مستقل سمجھ لیتے ہیں۔ جب حالات خراب ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سب کچھ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی مسلسل بدلتی رہتی ہے۔
جس طرح بس اسٹاپ پر انتظار ہمیشہ ختم ہوجاتا ہے، اسی طرح زندگی کے مشکل دن بھی ہمیشہ نہیں رہتے۔
کبھی کبھی ہمیں صرف اتنا یاد رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ شاید ہماری منزل ابھی راستے میں ہو۔
— اختتام —