← تمام اردو کہانیاں

بارش کے بعد والی گلی

Narrow rainy street in an old town after rainfall, wet roads reflecting warm lights, peaceful evening atmosphere

شہر کے پرانے حصے میں ایک تنگ سی گلی تھی۔ وہ گلی زیادہ مشہور نہیں تھی۔ نہ وہاں بڑے بازار تھے، نہ چمکتے ہوئے شاپنگ سینٹر اور نہ ہی کوئی خاص رونق۔ لیکن اس گلی کی ایک اپنی الگ دنیا تھی۔ صبح کے وقت دودھ والے کی سائیکل کی گھنٹی سنائی دیتی، دوپہر میں بچوں کے کھیلنے کی آوازیں آتیں اور شام کے وقت گھروں کی کھڑکیوں سے روشنی باہر جھانکنے لگتی۔

اس گلی میں ایک نوجوان رہتا تھا جس کا نام حمزہ تھا۔ اس کی عمر تقریباً پچیس سال تھی۔ وہ ایک چھوٹی سی دکان پر کام کرتا تھا۔ صبح جلدی نکلتا اور رات گئے واپس آتا۔ اس کی زندگی ایک مشین کی طرح بن چکی تھی۔ اٹھنا، کام پر جانا، واپس آنا، کھانا کھانا اور سو جانا۔

وہ اکثر سوچتا تھا کہ اس کی زندگی میں کوئی خاص چیز نہیں رہی۔ نہ کوئی بڑی کامیابی، نہ کوئی خواب پورا ہونے کی امید۔ کبھی کبھی وہ رات کو اپنے گھر کی چھت پر بیٹھ جاتا اور آسمان کو دیکھتے ہوئے خود سے کہتا:

"کیا زندگی بس یہی ہے؟"

لیکن اس سوال کا جواب کبھی نہیں ملتا تھا۔

ایک دن دوپہر کے بعد اچانک بارش شروع ہوگئی۔ پہلے ہلکی بوندیں گریں اور پھر آہستہ آہستہ تیز بارش ہونے لگی۔ لوگ دکانوں کے سائے میں کھڑے ہوگئے۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونا شروع ہوگیا۔

حمزہ اس وقت اپنی دکان سے واپس آرہا تھا۔ اس کے پاس چھتری نہیں تھی۔ وہ ایک پرانی دکان کے چھجے کے نیچے کھڑا ہوگیا اور بارش رکنے کا انتظار کرنے لگا۔

اسی دوران اس نے دیکھا کہ سامنے ایک بوڑھا شخص سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں سبزیوں کا ایک تھیلا تھا اور بارش کی وجہ سے وہ پوری طرح بھیگ چکا تھا۔

لوگ اس کے پاس سے گزر رہے تھے مگر کسی نے توجہ نہیں دی۔

حمزہ نے چند لمحے اس شخص کو دیکھا۔ پھر بغیر سوچے اپنی جگہ سے نکلا اور اس کے پاس چلا گیا۔

"بابا، آئیے یہاں کھڑے ہوجائیں۔"

بوڑھے آدمی نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔

"بیٹا، تم خود بھی تو بھیگ جاؤ گے۔"

حمزہ ہلکا سا مسکرایا۔

"کوئی بات نہیں۔"

دونوں دکان کے چھجے کے نیچے آگئے۔

کچھ لمحے خاموشی رہی۔ پھر بوڑھے آدمی نے کہا:

"آج کل لوگ رکنا بھول گئے ہیں۔ سب کے پاس وقت کم ہے۔"

حمزہ نے ہلکی سی مسکراہٹ دی لیکن کچھ نہیں بولا۔

پھر بوڑھے آدمی نے اچانک پوچھا:

"تم خوش ہو؟"

یہ سوال سن کر حمزہ چونک گیا۔

اس نے فوراً جواب نہیں دیا۔

اس نے سوچا کہ آخری بار اس نے واقعی خوشی کب محسوس کی تھی۔

چند لمحوں بعد اس نے دھیرے سے کہا:

"پتہ نہیں۔"

بوڑھے شخص نے بارش کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:

"لوگ خوشی کو بہت دور تلاش کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ پیسہ، بڑا گھر یا بڑی کامیابی انہیں خوش کردے گی۔ لیکن اکثر خوشی چھوٹی چیزوں میں چھپی ہوتی ہے۔"

حمزہ خاموشی سے سنتا رہا۔

بارش آہستہ آہستہ کم ہونے لگی۔

بوڑھے شخص نے اپنا تھیلا اٹھایا اور جانے لگا۔

پھر وہ رکا اور مڑ کر بولا:

"بیٹا، کبھی کبھی دوسروں کے لیے ایک لمحہ نکال لینا، اپنی زندگی کے کئی خالی حصے بھر دیتا ہے۔"

اور وہ چلا گیا۔

حمزہ کافی دیر تک وہیں کھڑا رہا۔

وہ جملہ اس کے ذہن میں بار بار گونج رہا تھا۔

اگلے دن جب وہ کام پر جارہا تھا تو اس نے دیکھا کہ ایک چھوٹا بچہ اپنی کتابیں اٹھانے کی کوشش کررہا ہے جو زمین پر گر گئی تھیں۔

پہلے وہ آگے بڑھ گیا۔

پھر اچانک رک گیا۔

وہ واپس آیا اور کتابیں اٹھا کر بچے کو دے دیں۔

بچے کے چہرے پر آنے والی مسکراہٹ چند سیکنڈ کی تھی۔

لیکن نہ جانے کیوں حمزہ کے دل کو عجیب سا سکون ملا۔

اس دن کے بعد اس نے چھوٹی چھوٹی چیزوں پر دھیان دینا شروع کردیا۔

کبھی وہ راستے میں کسی بوڑھے شخص کی مدد کردیتا، کبھی پڑوسی کے سامان اٹھانے میں ہاتھ بٹا دیتا، کبھی کسی پریشان انسان کی بات سن لیتا۔

اور آہستہ آہستہ اسے محسوس ہونے لگا کہ شاید زندگی صرف اپنے لیے جینے کا نام نہیں۔

کچھ مہینے بعد ایک شام وہ اپنی چھت پر بیٹھا ہوا تھا۔

آسمان پر ہلکے بادل تھے اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔

اس نے اچانک محسوس کیا کہ آج بہت عرصے بعد اس نے خود سے وہ سوال نہیں پوچھا:

"کیا زندگی بس یہی ہے؟"

کیونکہ شاید اب اسے جواب مل چکا تھا۔


معنی اور غور و فکر—

اس کہانی کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی کے بڑے خواب اہم نہیں ہوتے۔ خواب اور کامیابیاں ضروری ہیں، لیکن انسان اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے اعمال بھی دل کو بدل سکتے ہیں۔

ہم میں سے بہت سے لوگ خوشی کو کسی بڑے دن، بڑی کامیابی یا کسی خاص موقع سے جوڑ دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات ایک مسکراہٹ، ایک مدد، یا چند لمحوں کی توجہ انسان کے اندر ایسی روشنی پیدا کر سکتی ہے جو بڑے انعامات بھی نہیں دے پاتے۔

زندگی کی خوبصورتی ہمیشہ بڑی چیزوں میں نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی بارش کے بعد والی ایک خاموش گلی بھی انسان کو خود سے ملا دیتی ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →