← تمام اردو کہانیاں

وہ لڑکی جو ہمیشہ دوسروں کے خواب پورے کرتی رہی

A young woman standing on a rooftop at sunset holding old books close to her chest, emotional and reflective atmosphere

عائشہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔

جب وہ چھوٹی تھی تو اس کے خواب بہت بڑے تھے۔ اسے کتابیں پسند تھیں۔ وہ اکثر اسکول سے واپس آ کر اپنی کاپی کے آخری صفحوں پر چھوٹے چھوٹے نوٹ لکھتی رہتی تھی۔ کبھی کہانیاں، کبھی خیالات، کبھی اپنی بنائی ہوئی دنیا۔

اس کی استانی نے ایک بار پوری کلاس کے سامنے کہا تھا:

“عائشہ، تم بہت اچھا لکھتی ہو۔ ایک دن تم بہت آگے جا سکتی ہو۔”

وہ دن عائشہ کو آج بھی یاد تھا۔

وہ گھر آئی تھی، خوشی سے بھری ہوئی۔

اس نے امی سے کہا تھا:

“امی، میں بڑی ہو کر لکھنے والی بننا چاہتی ہوں۔”

امی مسکرائی تھیں، مگر کچھ نہیں بولیں۔

اس وقت شاید کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔

وقت آہستہ آہستہ بدلتا گیا۔

والد کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ گھر کے حالات کمزور ہونے لگے۔ خرچے بڑھتے گئے۔

اور پھر ایک دن، عائشہ نے اپنی پڑھائی چھوڑ دی۔

کسی نے اسے مجبور نہیں کیا تھا۔

اس نے خود کہا تھا:

“پہلے سعد کی فیس بھر دیتے ہیں… میری پڑھائی بعد میں ہو جائے گی۔”

پھر “بعد میں” آہستہ آہستہ سالوں میں بدل گیا۔

اس نے گھر سنبھالنا شروع کر دیا۔

چھوٹے بہن بھائیوں کے کپڑے، کھانا، پڑھائی، ان کی ضرورتیں…

اس کی زندگی دوسروں کے گرد گھومنے لگی۔

سعد انجینئر بن گیا۔

چھوٹی بہن ڈاکٹر بن گئی۔

سب کے گھروں میں خوشیاں آنے لگیں۔

اور ہر کامیابی کے بعد سب لوگ کہتے:

“عائشہ نے بہت قربانیاں دی ہیں۔”

وہ ہنس دیتی تھی۔

مگر رات کو کبھی کبھی وہ اپنی پرانی الماری کھولتی تھی۔

اس کے اندر ایک پرانی نیلی کاپی رکھی تھی۔

وہی کاپی جس کے آخری صفحوں پر وہ لکھا کرتی تھی۔

اس نے ایک رات وہ کاپی نکالی۔

گرد صاف کی۔

پہلا صفحہ کھولا۔

اوپر بچپن کی لکھائی میں لکھا تھا:

"ایک دن میں لوگوں کے لیے کہانیاں لکھوں گی۔"

عائشہ کافی دیر تک اسے دیکھتی رہی۔

اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔

اسے ایسا لگا جیسے وہ کسی پرانے دوست سے برسوں بعد ملی ہو۔

اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔

سعد تھا۔

اب وہ بڑا ہو چکا تھا۔

اس نے آ کر پوچھا:

“آپ کیا دیکھ رہی ہیں؟”

عائشہ نے جلدی سے کاپی بند کر دی۔

“کچھ نہیں… پرانی چیزیں تھیں۔”

مگر سعد نے کاپی لے لی۔

وہ پڑھتا رہا…

پھر خاموش ہو گیا۔

کچھ لمحوں بعد اس نے پوچھا:

“آپ نے کبھی بتایا کیوں نہیں کہ آپ لکھنا چاہتی تھیں؟”

عائشہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

“زندگی میں سب کچھ نہیں ملتا۔”

سعد نے فوراً جواب دیا:

“کس نے کہا؟”

چند ہفتوں بعد، سعد ایک نیا لیپ ٹاپ لے کر آیا۔

اس نے وہ عائشہ کے سامنے رکھا اور کہا:

“اب ہماری باری ہے کہ ہم آپ کے خواب پورے کریں۔”

عائشہ خاموش ہو گئی۔

اس نے اسکرین کی طرف دیکھا…

پھر آہستہ سے اپنے ہاتھ کی بورڈ پر رکھے۔

برسوں بعد، اس نے پہلی بار اپنے لیے کچھ شروع کیا۔

اور اس دن اسے سمجھ آیا:

کچھ خواب مرتے نہیں—

وہ صرف انتظار کرتے ہیں۔


معنی اور غور و فکر—

👉 قربانی خوبصورت ہے، مگر اپنے خواب دفن کر دینا ضروری نہیں۔
👉 کچھ لوگ دوسروں کو منزل تک پہنچاتے پہنچاتے خود کو بھول جاتے ہیں۔
👉 زندگی کبھی کبھی دیر سے موقع دیتی ہے، مگر دیتی ضرور ہے۔
👉 خوابوں کی عمر ختم نہیں ہوتی۔

عائشہ نے اپنے خواب کھوئے نہیں تھے—
وہ صرف انہیں ایک الماری میں رکھ کر بھول گئی تھی۔

اور کبھی کبھی،
زندگی انہیں دوبارہ ہمارے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →