پرانے ریلوے اسٹیشن کی بینچ
سردیوں کی ایک لمبی رات تھی۔ آسمان پر بادلوں کی ہلکی تہہ موجود تھی اور ہوا میں ایسی ٹھنڈک گھلی ہوئی تھی جو کپڑوں کے پار اتر کر ہڈیوں تک پہنچ جاتی ہے۔ شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر اب وہ رونق نہیں رہی تھی جو دن کے وقت ہوا کرتی تھی۔ زیادہ تر پلیٹ فارم خالی ہوچکے تھے، چائے فروش اپنی آخری کیتلیاں سمیٹ رہے تھے، اور دور کہیں کسی انجن کی سیٹی خاموش فضا میں ایک اداس سی گونج پیدا کر رہی تھی۔
پلیٹ فارم نمبر تین کے آخری کونے میں ایک پرانی لکڑی کی بینچ رکھی تھی۔ اس بینچ پر وقت کے نشانات واضح تھے۔ رنگ کئی جگہوں سے اتر چکا تھا اور لکڑی پر بے شمار مسافروں کے انتظار کی کہانیاں جیسے نقش ہوچکی تھیں۔
اسی بینچ پر حارث بیٹھا ہوا تھا۔
اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ تھا اور آنکھوں میں بے شمار خیالات۔
وہ کسی ٹرین کا انتظار نہیں کر رہا تھا۔
درحقیقت وہ خود سے بھاگنے آیا تھا۔
کئی مہینوں سے اس کی زندگی ایک ایسی الجھن بن چکی تھی جس کا کوئی سرا اسے دکھائی نہیں دیتا تھا۔ یونیورسٹی مکمل ہونے کے بعد اس نے بڑے خواب دیکھے تھے۔ اسے یقین تھا کہ چند سالوں میں وہ اپنی منزل حاصل کرلے گا، اپنے والدین کا سہارا بنے گا اور وہ سب کچھ حاصل کرے گا جس کا اس نے تصور کیا تھا۔
لیکن زندگی نے اس کے منصوبوں سے مشورہ نہیں کیا تھا۔
ایک نوکری ہاتھ سے نکل گئی، دوسری توقع کے مطابق نہ ملی، کاروبار کا ایک چھوٹا سا منصوبہ ناکام ہوگیا، اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے اندر ایک خطرناک احساس پیدا ہونے لگا تھا۔
وہ احساس یہ تھا کہ شاید وہ کافی نہیں ہے۔
شاید وہ دوسروں جتنا قابل نہیں۔
شاید اس سے کہیں کوئی بڑی غلطی ہوگئی ہے۔
وہ انہی خیالات میں گم تھا جب قریب ہی کسی کے بیٹھنے کی آواز آئی۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔
ایک بزرگ شخص اس کے برابر والی جگہ پر بیٹھ گئے تھے۔ ان کے ہاتھ میں پرانا سا چمڑے کا بیگ تھا اور سر پر اون کی ٹوپی۔
ان کے چہرے پر ایک عجیب قسم کا سکون تھا، جیسے زندگی نے انہیں بہت کچھ سکھایا ہو اور اب وہ کسی جلدی میں نہ ہوں۔
چند منٹ تک دونوں خاموش بیٹھے رہے۔
سامنے پٹریوں کے پار زرد روشنی مدھم دھند میں گھل رہی تھی۔
پھر بزرگ شخص نے آہستہ سے پوچھا:
"کسی کا انتظار کر رہے ہو؟"
حارث نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
"شاید۔"
بزرگ شخص نے مسکرا کر کہا:
"شاید؟"
حارث نے گہرا سانس لیا۔
"پتا نہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے میں کسی موقع کا انتظار کر رہا ہوں۔ کبھی لگتا ہے کسی معجزے کا۔"
بزرگ آدمی خاموشی سے سنتے رہے۔
پھر انہوں نے سامنے پٹریوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
"جانتے ہو، میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ٹرینوں میں سفر کرتے ہوئے گزارا ہے۔"
حارث نے پہلی بار دلچسپی سے ان کی طرف دیکھا۔
"واقعی؟"
"ہاں۔ اور ایک بات سیکھی ہے۔"
انہوں نے اپنی چھڑی کے سرے سے زمین پر ہلکی سی لکیر بنائی۔
"ہر ٹرین اپنے وقت پر نہیں آتی۔ کچھ لیٹ ہوتی ہیں۔ کچھ راستے میں رک جاتی ہیں۔ کچھ کا پلیٹ فارم بدل جاتا ہے۔ لیکن مسافر اگر پہلی تاخیر پر گھر واپس چلا جائے تو وہ کبھی منزل تک نہیں پہنچتا۔"
یہ الفاظ سن کر حارث خاموش ہوگیا۔
ہوا مزید سرد ہوگئی تھی۔
دور کہیں ایک ٹرین کی روشنی دکھائی دی، مگر وہ دوسرے پلیٹ فارم کی طرف جا رہی تھی۔
بزرگ شخص نے بات جاری رکھی۔
"آج کل لوگ اپنی زندگیوں کا موازنہ دوسروں سے بہت کرتے ہیں۔ کوئی دوست جلدی کامیاب ہوگیا تو لگتا ہے ہم پیچھے رہ گئے۔ کسی نے گھر خرید لیا تو محسوس ہوتا ہے ہم ناکام ہیں۔ کسی کی تصویر سوشل میڈیا پر اچھی لگ جائے تو اپنی زندگی بے رنگ دکھائی دینے لگتی ہے۔"
وہ چند لمحے رکے۔
"مگر کسی کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ ہر شخص کی ٹرین الگ ہے۔"
یہ جملہ حارث کے دل میں اتر گیا۔
اسے یاد آیا کہ وہ کتنے عرصے سے دوسروں کی کامیابیوں کو اپنی ناکامی سمجھتا آرہا تھا۔
وہ ہمیشہ یہ دیکھتا تھا کہ کون کہاں پہنچ گیا، مگر یہ نہیں دیکھتا تھا کہ وہ خود کتنی دور آچکا ہے۔
بزرگ آدمی نے مسکرا کر پوچھا:
"تم نے کبھی پیچھے مڑ کر دیکھا ہے؟"
"کیا مطلب؟"
"پانچ سال پہلے والے خود کو دیکھو۔"
حارث خاموش ہوگیا۔
اس نے واقعی کبھی ایسا نہیں کیا تھا۔
وہ ہمیشہ اگلی منزل کے بارے میں سوچتا رہا، کبھی یہ نہیں دیکھا کہ اس نے کتنی مشکلات عبور کی ہیں، کتنی چیزیں سیکھی ہیں اور کتنی بار گرنے کے باوجود دوبارہ کھڑا ہوا ہے۔
کچھ دیر بعد پلیٹ فارم پر اعلان ہوا۔
ایک ٹرین آنے والی تھی۔
بزرگ شخص آہستہ سے کھڑے ہوگئے۔
انہوں نے اپنا بیگ اٹھایا اور جانے لگے۔
حارث نے جلدی سے پوچھا:
"اگر انسان کو لگے کہ وہ بہت دیر کر چکا ہے تو؟"
بزرگ آدمی رک گئے۔
انہوں نے مسکرا کر جواب دیا:
"بیٹا، گھڑی صرف وقت بتاتی ہے، قابلیت نہیں۔"
پھر وہ اپنی ٹرین کی طرف بڑھ گئے۔
حارث کافی دیر تک انہیں جاتا ہوا دیکھتا رہا۔
چند لمحوں بعد ٹرین پلیٹ فارم سے روانہ ہوگئی۔
انجن کی آواز دھیرے دھیرے دور ہوتی گئی۔
پلیٹ فارم دوبارہ خاموش ہوگیا۔
لیکن حارث کے اندر کچھ بدل چکا تھا۔
وہ اسی بینچ پر بیٹھا آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔
بادل آہستہ آہستہ ہٹ رہے تھے اور ان کے درمیان چند ستارے نظر آنے لگے تھے۔
شاید زندگی واقعی ختم نہیں ہوئی تھی۔
شاید اس کی ٹرین صرف تھوڑی دیر سے آ رہی تھی۔
معنی اور غور و فکر—
اکثر لوگ اپنی زندگی کو دوسروں کی کامیابیوں کے پیمانے سے ناپتے ہیں، اور یہی چیز انہیں بے چینی اور مایوسی کی طرف لے جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کا سفر مختلف ہوتا ہے۔
کسی کا راستہ مختصر ہوتا ہے، کسی کا طویل۔ کسی کو جلدی منزل مل جاتی ہے اور کسی کو دیر سے، لیکن دیر سے پہنچنا ناکامی نہیں ہوتا۔
یاد رکھیں، زندگی دوڑ نہیں بلکہ ایک سفر ہے۔ اور سفر میں سب سے اہم بات یہ نہیں کہ آپ کتنی تیزی سے چل رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ رک نہیں رہے۔
— اختتام —