لفظوں کا شہر
رات کے بارہ بج رہے تھے۔ خلیل احمد کے کمرے میں لیمپ کی مدھم روشنی پھیل رہی تھی۔ سامنے خالی صفحہ تھا — جیسے خاموش چہرہ جو کچھ کہنا چاہتا ہو۔
وہ پچھلے پندرہ دنوں سے ایک ہی جملہ لکھنے کی کوشش کر رہا تھا: “کہانی کہاں ختم ہوتی ہے؟” مگر ہر بار قلم رک جاتا۔ جیسے لفظ اُس سے ناراض ہوں۔
کبھی وہ سوچتا — شاید کہانی ختم نہیں ہوتی، بس لوگ پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔
خلیل نے کھڑکی کے باہر دیکھا۔ آسمان پر چاند تھا، مگر آدھا۔ اُسے لگا جیسے اُس کی کہانی بھی ادھوری ہو۔
میز پر ایک پرانا خط رکھا تھا۔ اُس پر لکھا تھا: “تم نے مجھے اپنی تحریر میں امر کر دیا، مگر خود کو بھلا بیٹھے۔”
یہ اُس کی مرحوم بیوی زہرا کا خط تھا — جو کبھی اُس کی ہر کہانی کا مرکز ہوا کرتی تھی۔ اُس کی موت کے بعد خلیل کے لفظ ٹوٹ گئے تھے، جیسے قلم سے روشنائی نہیں، درد بہتا ہو۔
اُس رات اُس نے فیصلہ کیا — وہ لکھے گا، مگر اس بار زہرا کے لیے نہیں، خود کے لیے۔
صبح ہونے تک خالی صفحہ بھرا جا چکا تھا۔ آخری جملہ لکھا گیا: “کہانی ختم نہیں ہوئی، میں بس لکھنے والا بدل گیا ہوں۔”
اُس نے قلم رکھ دیا، اور ایک عجب سکون دل میں اُتر گیا۔ جیسے لفظوں نے آخرکار اپنا شہر واپس پا لیا ہو۔
مفہوم / عکاسی:
“لفظوں کا شہر” اُن تخلیق کاروں کے لیے ہے
جو اپنے اندر کے شور کو صفحوں پر اتارتے ہیں۔
یہ یاد دلاتی ہے کہ کبھی کبھی لکھنا جینا ہوتا ہے،
اور خاموشی بھی ایک زبان رکھتی ہے۔
— اختتام —