آئینے کا خواب
اس رات میں نے خواب دیکھا — ایک آئینہ میرے سامنے رکھا تھا، مگر اُس میں میرا عکس نہیں، کسی اور کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔
وہ چہرہ مسکرا رہا تھا۔ میں نے پوچھا، “تم کون ہو؟” اُس نے کہا، “میں وہ ہوں جو تم کبھی تھے۔” اچانک آئینے کی سطح لرزنے لگی۔ جیسے پانی پر کوئی پتھر پھینک دیا گیا ہو۔
میں جاگ گیا۔ کمرے میں سناٹا تھا، مگر دیوار کے سامنے رکھا پرانا آئینہ واقعی ہلکا سا لرز رہا تھا۔ دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
اگلی صبح میں نے اُس آئینے کو غور سے دیکھا۔ پیچھے پرانی لکڑی پر ایک تاریخ کندہ تھی — “22 مارچ، 1985” ٹھیک چالیس سال پرانی۔
تجسس بڑھا۔ میں نے اپنے دادا کی پرانی ڈائری کھولی۔ ایک صفحے پر لکھا تھا: “یہ آئینہ اُس شخص کا ہے جو سچ سے بھاگ کر خوابوں میں چھپ گیا۔”
شام ہوتے ہی میں نے دوبارہ اُس آئینے کے سامنے بیٹھنے کی ہمت کی۔ روشنی مدھم تھی۔ دھیرے دھیرے پھر وہی چہرہ ظاہر ہوا — مگر اب وہ رو رہا تھا۔ اُس نے کہا، “تم لکھنا چھوڑ چکے ہو، تم نے لفظوں سے رشتہ توڑ لیا۔ میں تمہارا وہ حصہ ہوں جو ابھی بھی زندہ ہے — بس بھولا ہوا۔”
آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ میں نے پہلی بار خود کو پہچانا۔ وہ چہرہ آہستہ آہستہ دھند میں بدل گیا، مگر جانے سے پہلے اُس نے کہا، “جب قلم اٹھاؤ گے، میں واپس آ جاؤں گا۔”
اُس رات میں نے لکھنا شروع کیا — وہ کہانی جو کبھی مکمل نہ ہو سکی تھی۔ آئینہ خاموش تھا، مگر روشنی نرم ہو گئی تھی۔ جیسے اُس کے اندر سکون سانس لے رہا ہو۔
صبح جب میں نے آخری جملہ لکھا، آئینے میں میرا عکس واپس آ چکا تھا۔ مگر اس بار وہ مختلف تھا — پُر سکون، مکمل۔
مفہوم / عکاسی:
“آئینے کا خواب” اُس لمحے کی کہانی ہے
جب انسان خود کو بھول جاتا ہے۔
یہ یاد دلاتی ہے کہ تخلیق، خواب، اور حقیقت
دراصل ایک ہی عکس کے مختلف رنگ ہیں —
اور ہم سب کسی نہ کسی آئینے کے اندر زندہ ہیں۔
— اختتام —