کہوٹہ کے پار
کہوٹہ کی پہاڑی سڑک پر جیپ ہچکولے کھا رہی تھی۔ سامنے بادلوں کا سمندر پھیلا تھا، جیسے آسمان زمین کے قریب آ گیا ہو۔ میں اکیلی تھی — اور پہلی بار بالکل خاموش۔
شہر کی دوڑ میں عادت ہو گئی تھی شور کی، لیکن یہاں خاموشی بھی بولتی تھی۔ ہوا کے جھونکوں میں چیڑ کے درختوں کی سرگوشیاں سنائی دیتی تھیں۔ راستے کے کنارے چھوٹی ندی بہہ رہی تھی — جیسے وقت خود رواں ہو۔
گاؤں کے ایک بزرگ، حاکم چاچا، جن کے چہرے پر پہاڑوں جیسی ٹھہراؤ تھی، بولے، “بی بی، یہاں ہر مسافر کچھ کھو کر ہی کچھ پاتا ہے۔ کبھی دل، کبھی جواب۔”
میں مسکرا دی۔ شاید میں بھی کچھ کھو آئی تھی — خواب، سکون، یا خود کو۔ اگلی صبح میں پیدل نکلی۔ دھند میں لپٹی وادی کے بیچ ایک چھوٹی مسجد تھی، جس کے سامنے بہتا چشمہ سورج کی روشنی میں چمک رہا تھا۔
مسجد کے دروازے پر لکھا تھا: “یہاں جو خاموش بیٹھے، وہ دعا بن جاتا ہے۔” میں وہیں بیٹھ گئی۔ پہاڑوں کے بیچ عجیب سا سکون تھا — جیسے دل کی دھڑکن پہلی بار آہستہ ہوئی ہو۔
کچھ دیر بعد ایک بچی آئی، ہاتھ میں جنگلی پھول۔ بولی، “یہ پھول یہاں خود اُگتے ہیں، کسی نے نہیں لگائے — جیسے زندگی خود راہ ڈھونڈ لیتی ہے۔” میں نے وہ پھول لیا، دل مسکرا گیا۔
شام ڈھلنے لگی تو واپس جیپ کی طرف بڑھی۔ پیچھے پہاڑوں کے سائے لمبے ہو رہے تھے، جیسے وقت بھی رک کر دیکھ رہا ہو۔ میں نے آخری بار وادی کی طرف دیکھا اور کہا، “میں جا تو رہی ہوں، مگر شاید خود کو یہی چھوڑ رہی ہوں۔”
شہر لوٹ کر جب میں نے آئینہ دیکھا، تو لگا جیسے آنکھوں میں پہاڑ بول رہے ہوں۔ اب میں خاموش نہیں تھی — بلکہ خاموشی مجھے سمجھنے لگی تھی۔
مفہوم / عکاسی:
“کہوٹہ کے پار” ایک ایسے سفر کی کہانی ہے
جو راستوں سے نہیں، احساسات سے طے ہوتا ہے۔
پہاڑ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ سکون شور میں نہیں،
بلکہ اُس جگہ ہے جہاں ہم خود سے ملنے رک جائیں۔
— اختتام —