تمہاری خوشبو کا موسم
بارش کی ہلکی بوندیں کھڑکی پر رقص کر رہی تھیں۔ کمرے میں چائے کی خوشبو اور ایک پرانی تصویر کی خاموشی تھی۔ زویا نے چائے کے کپ کو تھاما، جیسے وہ اب بھی اس کے ہاتھوں کی گرمی محسوس کر سکتی ہو۔ پانچ سال بیت گئے تھے، مگر دل کے کسی کونے میں اب بھی وہی جون کی نمی باقی تھی۔
اس کے سامنے وہ خط رکھا تھا — مڑاہوا، بوسیدہ، مگر اب تک معطر۔ *"جب کبھی بارش ہو، سمجھ لینا میں قریب ہوں۔"* یہی ایک جملہ تھا جس نے وقت کے سارے شور کو ہلکا رکھا۔ وہ خط پڑھتے ہوئے مسکرائی، اور بوندوں میں وہی پرانا سایہ دیکھا جو کبھی ساتھ ہنستا تھا۔
انہیں آخری بار وہ درخت یاد آیا — جہاں دونوں نے ایک ہی مٹی پر نام کندہ کیے تھے۔ "محبت لکھی نہیں جاتی، زویا، بس محسوس ہوتی ہے۔" وہ کہتا تھا، اور پھر ایک دن بنا بتائے چلا گیا۔ اس کے بعد دنیا چلی، وقت گزرا، مگر زویا کی سانسوں میں ایک خالی جگہ رہ گئی — جیسے ہر خوشبو اپنے نام کے بغیر ادھوری ہو۔
آج جب کھڑکی کے باہر وہی خوشبو آئی — بارش، مٹی، گلاب — تو زویا کو لگا جیسے کوئی آہستہ سے بولا ہو: "اب بھی سن رہی ہو؟" وہ چونک کر اٹھی، کھڑکی کھولی، مگر سامنے کچھ نہ تھا۔ بس ہوا کا ایک نرم جھونکا، جو اس کے بالوں سے گزرتا ہوا چائے کے کپ کو چھو گیا — جیسے کوئی وعدہ اپنی صورت بدل کر لوٹ آیا ہو۔
رات کے پچھلے پہر، اس نے خط کو دوبارہ تہہ کیا، اور کھڑکی کے پاس رکھ دیا۔ بارش رک چکی تھی۔ آسمان صاف تھا۔ کہیں دور ایک ستارہ ٹمٹما رہا تھا، بالکل اس کی طرح جو کبھی کہتا تھا، "محبت ختم نہیں ہوتی، بس رُخ بدل لیتی ہے۔"
مفہوم / عکاسی:
*تمہاری خوشبو کا موسم* یہ احساس جگاتی ہے کہ کچھ رشتے وقت سے آگے ہوتے ہیں۔
وہ جسمانی موجودگی سے نہیں، بلکہ یاد کی خوشبو سے جیتے ہیں۔
محبت ختم نہیں ہوتی — وہ صرف خاموش ہو جاتی ہے، مگر کبھی مٹتی نہیں۔
— اختتام —