چائے، سیاست اور چاچا رشید
گاؤں کے چوک میں موجود “چائے محل ہوٹل” ہر صبح ایک نئے ایوان میں بدل جاتا تھا۔ کرسیاں کم، بحثیں زیادہ، اور چائے ہمیشہ ٹھنڈی۔ درمیان میں بیٹھے ہوتے تھے — چاچا رشید — خود ساختہ سیاست دان، فلسفی، اور کبھی کبھار شاعر بھی۔ اُن کی سب سے بڑی خصوصیت: کبھی کسی سے متفق نہ ہونا۔
ایک دن چائے والے سلیم نے کہا، "چاچا، حکومت نے آٹا سستا کر دیا ہے!" چاچا نے چائے کا گھونٹ بھرا، بھنویں چڑھائیں، "ہونہہ! سستا تو کر دیا، مگر اب چولہا جلانے کو گیس کہاں سے لاؤ گے؟" سب قہقہہ لگا کر ہنسے۔ پاس بیٹھا طالب علم بولا، "چاچا، اب تو اسکولوں میں مفت کتابیں ملنے لگی ہیں!" "کتابیں تو مل گئیں، مگر پڑھنے والا دل کہاں؟" — چاچا نے فلسفیانہ انداز میں دھواں اڑایا۔
ایک دن کسی نے ان سے پوچھا، "چاچا، آپ کبھی خوش بھی ہوئے کسی فیصلے سے؟" وہ ہنسے، "بیٹا، اگر سب کچھ ٹھیک ہو گیا تو میری روزی بند ہو جائے گی! پھر تم لوگ مجھ سے بحث کیسے کرو گے؟" پورا چوک ہنس ہنس کر دہرا ہو گیا۔ سلیم نے کہا، "چاچا، آپ کے بغیر چائے کا مزہ آدھا رہ جائے۔" "چائے؟ بیٹا، میں تو تمہاری بحث کی چینی ہوں!" — اور یہ کہہ کر وہ خود ہی اپنی بات پر تالیاں بجانے لگے۔
شام کو جب سب گھر چلے گئے، چاچا رشید وہیں بیٹھے رہے۔ خالی پیالی کو دیکھ کر بولے، "یہ ملک بھی چائے جیسا ہے — کبھی میٹھا، کبھی کڑوا، اور آخر میں پیالی میں تلچھٹ رہ جاتی ہے!" پھر مسکرا کر بولے، "بس فرق اتنا ہے، چائے پھر بھی سستی ہے۔"
مفہوم / عکاسی:
*چائے، سیاست اور چاچا رشید* ہمیں ہنسی کے ساتھ ایک نرم آئینہ دکھاتی ہے —
کہ طنز کے پیچھے بھی ایک سچ چھپا ہوتا ہے۔
زندگی چاہے کتنی بھی پیچیدہ ہو، اگر آپ اس پر ہنس سکتے ہیں، تو آپ اب بھی جیت رہے ہیں۔
— اختتام —