← تمام اردو کہانیاں

استاد جی کا جدید شاگرد

کلاس روم میں استاد ہاتھ میں رجسٹر لیے کھڑے ہیں، اور پیچھے ایک شاگرد موبائل میں مصروف۔

استاد جی بورڈ پر مساوات لکھ رہے تھے، “دو جمع دو کتنے ہوتے ہیں؟” سارا کلاس چپ، صرف ایک شاگرد — بلال — مسکرا رہا تھا۔ استاد جی نے پوچھا، “بیٹا، تم کیوں ہنس رہے ہو؟” بلال بولا، “سر، میں نے گوگل سے پوچھ لیا ہے، اُس نے فوراً بتایا چار۔”

استاد جی نے بھنویں چڑھائیں، “تو اب تم گوگل سے پڑھو گے؟” بلال نے فخر سے کہا، “جی سر! اب تو AI کا زمانہ ہے۔ آپ بس ہمیں Wi-Fi دے دیں، علم خود آ جائے گا!” ساری کلاس قہقہے لگانے لگی۔ استاد جی نے رجسٹر بند کیا اور بولے، “چلو، آج کا ہوم ورک — کل سب اپنے والدین سے پوچھ کر آنا کہ *AI* کا مطلب کیا ہوتا ہے۔”

اگلے دن بلال خوشی خوشی آیا، بولا، “سر! ابو نے کہا AI مطلب — *‘ابھی ایمان لاؤ’!*” کلاس ایک بار پھر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئی۔ استاد جی نے سر پکڑ لیا، “بیٹا، تمہارے ابو شاید AI نہیں، اے ایمان والے ہیں!” اور پھر خود بھی ہنس پڑے۔

مفہوم / عکاسی:
*استاد جی کا جدید شاگرد* ہمیں یاد دلاتی ہے کہ علم صرف انٹرنیٹ سے نہیں — بلکہ ہنسی، سوال اور تجسس سے بھی حاصل ہوتا ہے۔ کچھ باتیں گوگل نہیں سکھا سکتا — مگر استاد ضرور سکھا دیتے ہیں۔ 😄

— اختتام —