چاندنی کی چپ
رات کی ہوا میں ہلکی نمی تھی۔ چاند پورے جوبن پر تھا۔ زارا چھت پر بیٹھی چائے پی رہی تھی، مگر نظریں آسمان پر جمی تھیں۔ پانچ برس ہو گئے تھے، مگر اس کی باتوں کی بازگشت اب بھی چاندنی میں سنائی دیتی تھی۔ جیسے ہر ہوا کا جھونکا اس کا نام لے کر گزرتا ہو۔
وہ اکثر کہتا تھا، “چاندنی تم جیسی ہے، خاموش مگر روشن۔” اور زارا ہنس دیتی — “پھر تم اندھیرا کیوں بنے پھرتے ہو؟” اس رات جب وہ رخصت ہوا، تو بس ایک جملہ چھوڑ گیا، “جب بھی چاند دیکھو، سمجھنا میں قریب ہوں — بس کہنے کے قابل نہیں۔”
آج جب چاندنی پھر ویسی ہی تھی، زارا نے آہستہ سے آسمان کو دیکھا۔ کچھ کہنے کا دل ہوا، مگر لفظ گلے میں اٹک گئے۔ دل نے بس اتنا کہا، “اگر تم واقعی قریب ہو، تو ہلکی سی ہوا چلا دینا۔” اگلے ہی لمحے چائے کا بھاپ اڑ گیا — اور بالوں کی لٹ چہرے پر آ گری۔ زارا نے مسکرا کر آنکھیں بند کر لیں۔
نیچے سے اماں کی آواز آئی، “بیٹا، سردی ہو رہی ہے، آ جاؤ اندر!” زارا نے دھیرے سے کہا، “ابھی نہیں اماں، وہ آیا ہے۔” اماں ہنس کر بولیں، “پھر چاندنی سے بات کر کے آ جانا۔” زارا نے آسمان کی طرف دیکھا — چاند جیسے مسکرا رہا تھا، اور دل جیسے مطمئن ہو گیا تھا۔
اس رات اس نے کوئی پیغام نہیں لکھا، کوئی دعا نہیں مانگی — بس چپ چاپ چائے ختم کی، اور چاند کو سلام کیا۔ کیونکہ کچھ محبتیں لفظوں سے نہیں، خاموشی سے پوری ہوتی ہیں۔
مفہوم / عکاسی:
*چاندنی کی چپ* یہ احساس دیتی ہے کہ سچی محبت کبھی ختم نہیں ہوتی —
وہ خاموش رہ کر بھی ساتھ رہتی ہے۔
چاندنی کی طرح، جو جا کر بھی روشنی چھوڑ جاتی ہے۔
— اختتام —