← تمام اردو کہانیاں

خاموشی کی صدا

بارش کے بعد کھڑکی پر بہتے قطرے، اور ان کے پار دھندلا سا عکس۔

علی کے کمرے میں گہرا سکوت تھا۔ کھڑکی کے شیشے پر بارش کے قطرے ٹپک رہے تھے، جیسے وقت خود کو بہا رہا ہو۔ وہ ایک خط کے کونے کو مسلا جا رہا تھا — وہی خط جو اس نے کبھی بھیجا نہیں۔ اس خط میں کچھ نہیں لکھا تھا، مگر ہر لفظ محسوس ہوتا تھا۔

وہ یاد آیا جب وہ کہا کرتی تھی، “علی! تم بولتے نہیں، مگر تمہاری آنکھیں سب کہہ دیتی ہیں۔” آج وہ آنکھیں خالی تھیں۔ جیسے کوئی خواب رہ گیا ہو، آدھا، ادھورا۔

دیوار پر لگی گھڑی تھم گئی تھی — یا شاید وقت نے خود رکنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ دل چاہا وہ دروازہ کھول کر باہر نکل جائے، مگر کہاں؟ وہ ہر گلی، ہر راہ میں اس کی ہنسی سن لیتا تھا۔ اور پھر خود سے کہتا، “یہ خاموشی بھی تو ایک سزا ہے، شاید میری اپنی دی ہوئی۔”

رات ڈھلتی گئی، بارش تھم گئی، مگر دل کی نمی باقی رہی۔ وہ کھڑکی کے پاس جا کر بولا، “اگر تم واقعی سن رہی ہو، تو ایک قطرہ اور گرا دینا۔” لمحہ بھر بعد شیشہ لرزا — ایک قطرہ پھسلا، نیچے گرا، اور علی مسکرا دیا۔

شاید کچھ رشتے ختم نہیں ہوتے، وہ خاموشیوں میں بدل جاتے ہیں۔ اور کچھ یادیں وقت کے ساتھ مٹتی نہیں، وہ صرف بارش کی خوشبو بن جاتی ہیں۔

مفہوم / عکاسی:
*خاموشی کی صدا* اس احساس کا استعارہ ہے جو لفظوں سے نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے۔ خاموشی بھی بولتی ہے — اگر کوئی سننے والا ہو۔

— اختتام —