وقت کے پار محبت
ریلوے اسٹیشن پر شام اتر رہی تھی۔ سورج ڈوبنے کے ساتھ آسمان کا رنگ بھی بدلتا جا رہا تھا، جیسے کسی نے اداسی کو روشنی سے جدا کر دیا ہو۔ حنا بینچ پر بیٹھی تھی، ہاتھ میں پرانا کاغذ — وہی خط جو آصف نے جانے سے پہلے دیا تھا۔
خط کے کونے پر لکھا تھا، “جب تم یہ پڑھو گی، میں شاید کہیں دور ہوں، مگر میری محبت تمہارے پاس رہے گی — وقت کے پار۔” حنا نے تب ہنستے ہوئے کہا تھا، “وقت کے پار؟ یہ کوئی کہانی نہیں، آصف!” مگر آج، دس برس بعد، وہی جملہ سچ لگ رہا تھا۔
ہوا میں کسی مانوس خوشبو کی لہر اٹھی — وہی عطر، جو آصف لگایا کرتا تھا۔ حنا نے آنکھیں بند کیں، “کیا محبت واقعی ختم ہو جاتی ہے؟ یا صرف بدل جاتی ہے؟” دل نے جواب دیا، “کچھ محبتیں وقت سے آزاد ہوتی ہیں۔”
ٹرین کی سیٹی گونجی۔ ایک لمحے کو لگا جیسے وقت رک گیا ہو۔ حنا نے خط کو سینے سے لگایا، اور دل میں ایک دعا کی — “جہاں بھی ہو، خوش رہنا۔ میں اب بھی وہی ہوں۔” دور آسمان پر بادلوں کے بیچ سورج نے ایک بار پھر جھانکا، جیسے کسی نے “میں بھی تمہیں یاد کرتا ہوں” کہہ دیا ہو۔
رات ڈھلی، اسٹیشن خالی ہو گیا، مگر ایک احساس باقی رہا — کہ کچھ رشتے، کچھ یادیں، کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ وہ صرف وقت کے پار چلی جاتی ہیں۔
مفہوم / عکاسی:
*وقت کے پار محبت* یہ احساس ہے کہ سچی محبت وقت، فاصلے اور خاموشی سے بڑی ہوتی ہے۔
وہ بدل نہیں سکتی، کیونکہ وہ روح کا حصہ بن جاتی ہے۔
— اختتام —