بیگم، موبائل اور مسئلہِ محبت
آصف ہمیشہ کی طرح صوفے پر بیٹھا چائے پی رہا تھا، اور موبائل پر واٹس ایپ کھولا ہوا تھا۔ بیگم نے ایک نظر ڈالی، پھر طنزیہ انداز میں بولیں، “کیا بات ہے صاحب! آج کل مسکراہٹ کچھ زیادہ ہی گہری لگ رہی ہے؟”
آصف چونک گیا، “کچھ نہیں جی، بس آفس کا گروپ ہے۔” “آفس کا گروپ یا *آفس والی گروپ؟*” بیگم نے بھنویں چڑھاتے ہوئے پوچھا۔ آصف کے ہاتھ سے کپ چھوٹتے چھوٹتے بچا۔ “ارے نہیں بیگم! یہ تو میم نورین ہیں، اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے—” “اچھا تو اب اکاؤنٹس میں *محبت* بھی جمع ہونے لگی ہے؟”
آصف نے پسینے صاف کرتے ہوئے موبائل بڑھایا، “چیک کر لیں، دیکھ لیں! بس ایک میم نے میم بھیجی تھی!” بیگم نے موبائل لیا، اور فوراً چیخ اٹھیں، “یہ دل والا سٹکر کس لیے بھیجا تھا؟!” آصف نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا، “بیگم! وہ ‘Love for Tea’ والا گروپ ہے — دل چائے کے لیے تھا، کسی کے لیے نہیں!”
بیگم نے گہری سانس لی، “ہاں، چائے کے لیے ہی سب دل دھڑکتے ہیں، نا!” آصف نے بات بدلنے کے لیے ٹی وی آن کیا، نیوز اینکر بولا، “ملک میں سب سے زیادہ تنازع شادی شدہ جوڑوں کے درمیان موبائل کے باعث!” بیگم نے فورا کہا، “سنیے! دیکھ لیا؟ اب تو نیوز والے بھی کہہ رہے ہیں!” آصف ہنس دیا، “جی بیگم، اب میں موبائل لاک لگا دیتا ہوں تاکہ امن قائم رہے۔” بیگم مسکرائیں، “ہاں ہاں، لگا دیں — لاک بھی، اور عقل بھی!”
اس رات بیگم نے موبائل اپنی طرف تکیے کے نیچے رکھ لیا، اور آصف نے سوچا، “شاید محبت اب فنگر پرنٹ سے بھی محفوظ نہیں رہی۔” دونوں ہنسنے لگے، اور یوں *موبائل کا مسئلہ* بھی محبت میں گھل گیا۔
مفہوم / عکاسی:
*بیگم، موبائل اور مسئلہِ محبت* ہنسی کے ساتھ ایک حقیقت دکھاتی ہے —
کہ اعتماد، کسی لاک اسکرین سے زیادہ مضبوط ہونا چاہیے۔
کبھی کبھار ایک چھوٹی سی مسکراہٹ ہی سب غلط فہمیاں مٹا دیتی ہے۔ 😄
— اختتام —