← تمام اردو کہانیاں

بارش کی خوشبو

بارش میں کھڑکی کے پاس رکھی چائے کی پیالی، اور شیشے پر بہتی بوندوں کے ساتھ ایک دھندلا عکس۔

کھڑکی کے باہر بارش برس رہی تھی۔ ہوا میں مٹی کی خوشبو گھلی ہوئی تھی — وہی خوشبو جو عائشہ کو ہمیشہ اُس کی یاد دلاتی تھی۔ اُس نے چائے کا گھونٹ لیا، اور شیشے پر بہتی بوندوں کو دیکھنے لگی۔ ہر بوند جیسے کسی یاد کا پیغام بن کر آ رہی تھی۔

اُس نے آہستہ سے کہا، “تمہیں یاد ہے؟ تم کہتے تھے بارش سب دکھ دھو دیتی ہے…” مگر آج، یہ بارش خود اُس کے اندر رو رہی تھی۔ ٹیبل پر رکھا ایک پرانا خط — کناروں سے مڑا ہوا، مگر لفظ ابھی تک سانس لے رہے تھے۔ “اگر کبھی میں نہ رہوں، تو بارش کو میرا پیغام سمجھنا۔” یہ اُس خط کی آخری سطر تھی۔

عائشہ نے کھڑکی کھولی۔ بوندیں اُس کے ہاتھوں پر گریں — ٹھنڈی، مگر نرم۔ لمحہ بھر کو لگا جیسے کوئی اُس کے بالوں کو سہلا رہا ہو۔ “شاید محبت ختم نہیں ہوتی، صرف روپ بدل لیتی ہے…” اُس نے مسکراتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا۔

سامنے آسمان پر بجلی چمکی — جیسے کسی نے لمحہ بھر کے لیے وقت کا پردہ ہٹا دیا ہو۔ اُس نے آنکھیں بند کیں، اور دل میں ایک دعا کی، “جہاں بھی ہو، خوش رہنا۔ میں اب بھی وہی ہوں، تمہاری بارش میں زندہ۔”

بارش تھم گئی۔ مگر زمین پر مٹی کی خوشبو رہ گئی — وہی خوشبو جو محبت کے بعد بھی قائم رہتی ہے، جیسے احساس کبھی ختم نہ ہو۔

مفہوم / عکاسی:
*بارش کی خوشبو* ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محبت ہمیشہ لفظوں میں نہیں — کبھی خوشبو، کبھی منظر، اور کبھی خاموشی میں زندہ رہتی ہے۔ کچھ احساسات، وقت نہیں مٹا سکتا۔

— اختتام —