← تمام اردو کہانیاں

چاندنی میں وعدہ

چاندنی رات میں جھیل کے کنارے دو سائے خاموش کھڑے، پانی میں چاند کی پرچھائیں لرز رہی ہے۔

رات نیلی چادر اوڑھے خاموش بیٹھی تھی۔ جھیل کے پانی میں چاند اپنی پوری چمک سے جھلک رہا تھا۔ علی اور ہانیا، دو سایوں کی طرح کنارے بیٹھے تھے۔ کسی نے کچھ نہیں کہا — شاید سب کچھ کہہ دیا گیا تھا۔

“تم کل چلے جاؤ گے؟” ہانیا نے آہستہ سے پوچھا۔ علی نے سر جھکایا، “ہاں… لیکن صرف فاصلے بدلیں گے، دل نہیں۔” ہوا کے ایک جھونکے نے ہانیا کے بال اڑائے — علی نے ہاتھ بڑھایا مگر روک لیا، جیسے کوئی لمحہ ہاتھوں میں قید ہو جائے تو وقت رک جائے۔

ہانیا نے چاند کی طرف دیکھا، “کہتے ہیں چاند گواہ ہوتا ہے ہر وعدے کا۔” علی مسکرایا، “پھر آج چاند ہمارا وعدہ لکھ لے — کہ چاہے سال بدل جائیں، ہم نہیں بدلیں گے۔” ہانیا نے ہلکا سا سر جھکایا، “وعدہ رہا…”

خاموشی طویل ہو گئی۔ صرف جھیل کے پانی میں لہریں چاند کی روشنی توڑ رہی تھیں۔ اچانک علی نے جیب سے ایک چھوٹی سی انگوٹھی نکالی۔ “یہ کوئی تحفہ نہیں، بس یاد ہے… تاکہ جب چاند دیکھو، تمہیں میرا چہرہ یاد آئے۔” ہانیا نے آنسو پونچھے اور انگوٹھی پہن لی۔ “اور جب تم چاند دیکھو، تو یقین کرنا — میں بھی اُسی لمحے اُسے دیکھ رہی ہوں۔”

برسوں بعد، علی وطن لوٹا۔ جھیل وہی تھی، چاند بھی وہی — مگر ہانیا نہیں۔ صرف ایک پرانی انگوٹھی جھیل کے کنارے پڑی تھی۔ اُس نے اسے اٹھایا، اور آسمان کی طرف دیکھا۔ چاند چمک رہا تھا — شاید وعدہ اب بھی زندہ تھا۔

مفہوم / عکاسی:
*چاندنی میں وعدہ* ہمیں سکھاتی ہے کہ کچھ محبتیں وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں — وہ چاندنی کی طرح دل میں چمکتی رہتی ہیں، چاہے فاصلہ کتنا ہی کیوں نہ بڑھ جائے۔

— اختتام —