خاموش دیواریں
پرانے مکان کی دیواروں پر دراڑیں پڑ چکی تھیں۔ صحن کے ایک کونے میں اماں کی جھولتی کرسی اب بھی تھی، لیکن اب وہ خالی تھی۔ مریم اور فراز — دو بہن بھائی — برسوں بعد ایک ہی گھر میں موجود تھے، مگر ایک دوسرے سے بات نہیں کر رہے تھے۔
“تم اب آئے ہو؟” مریم کی آواز میں تھکن تھی۔ فراز نے جواب دیا، “آفس سے چھٹی ہی نہیں ملی تھی…” “آفس یا انا سے؟” مریم کے الفاظ تیر کی طرح چلے۔ فراز نے نگاہیں جھکالیں، “بات بڑھی تھی، مگر دل میں کبھی ناراضی نہیں تھی۔”
کمرے کی خاموشی بڑھ گئی۔ اماں کی تصویر دیوار پر لگی تھی — جیسے وہ دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہی ہوں۔ مریم کے ہاتھوں میں چائے کا کپ لرزنے لگا، “کاش، اماں کے سامنے جھگڑا نہ ہوتا…” فراز نے دھیرے سے کہا، “کاش، ہم دونوں میں سے کوئی ایک خاموشی توڑ دیتا…”
باہر بارش شروع ہو گئی۔ فراز نے کہا، “یاد ہے، اماں کہتی تھیں — بارش دلوں کو صاف کر دیتی ہے؟” مریم کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپکا۔ “شاید آج ہمارے دل بھی صاف ہو جائیں…” دونوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھا — برسوں کی خاموشی، ایک لمحے میں پگھل گئی۔
اگلی صبح سورج چمک رہا تھا۔ اماں کی تصویر کے نیچے تازہ پھول رکھے تھے۔ گھر اب خاموش نہیں تھا — جیسے دیواروں نے بھی سکون کا سانس لیا ہو۔
مفہوم / عکاسی:
*خاموش دیواریں* یہ بتاتی ہے کہ کبھی کبھی رشتے لفظوں سے نہیں،
بلکہ وقت پر بولنے سے بچ جاتے ہیں۔
خاموشی اگر طویل ہو جائے، تو دیوار بن جاتی ہے —
اور اسے توڑنے کے لیے صرف ایک “معافی” کافی ہوتی ہے۔
— اختتام —