ایک دن خاموشی کا
علی ہمیشہ مصروف رہتا تھا۔ آفس، فون کالز، ای میلز، ٹریفک — سب کچھ ایک دوڑ بن چکا تھا۔ ایک دن، اچانک اُس نے الارم بند کیا اور فیصلہ کیا کہ آج کچھ نہیں کرے گا۔ نہ کام، نہ میٹنگ، نہ بات — صرف خاموشی۔
صبح کی ہوا عجیب حد تک نرم تھی۔ وہ پارک گیا، ایک بینچ پر بیٹھا، اور لوگوں کو گزرتا دیکھنے لگا۔ ایک بچہ تتلی پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا، ایک بوڑھا درختوں کے سائے میں اخبار پڑھ رہا تھا، ایک لڑکی اپنی ماں کے لیے چپس لے کر بھاگ رہی تھی — سب اپنی دنیا میں خوش تھے۔
علی نے سوچا، “میں کب سے صرف جیتا رہا، جینے کے بغیر؟” اُس نے موبائل بند کیا، اور خود کو محسوس کرنے کی کوشش کی۔ ہوا، روشنی، آواز، سانس — سب جیسے برسوں بعد پہلی بار محسوس ہو رہے تھے۔
شام کو جب وہ گھر لوٹا، ٹی وی خاموش تھا، دیواریں جیسے سن رہی تھیں۔ اُس نے خود سے کہا، “زندگی اتنی مشکل نہیں تھی، میں نے اسے بھاگ کر مشکل بنایا۔” اُس رات وہ سکون سے سویا — برسوں بعد۔
اگلی صبح الارم بجا، مگر علی مسکرایا۔ اب وہ جان چکا تھا: کبھی کبھی کچھ حاصل کرنے کے لیے کچھ نہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
مفہوم / عکاسی:
*ایک دن خاموشی کا* یہ بتاتی ہے کہ زندگی کا مطلب ہمیشہ مصروف رہنا نہیں —
کبھی کبھی سکون، خاموشی، اور لمحے کو محسوس کرنا بھی جینا ہوتا ہے۔
ہم جتنا رکنا سیکھیں گے، اتنا ہی خود کو پائیں گے۔
— اختتام —