← تمام اردو کہانیاں

بیگم کا ڈائٹ پلان

کچن میں بیگم سلاد کا پیالہ ہاتھ میں لیے کھڑی ہیں اور شوہر پسِ منظر میں پیزا چھپا رہا ہے۔

“آصف! آج سے میں ڈائٹ پر ہوں،” بیگم نے صبح ناشتے کے دوران اعلان کیا۔ آصف نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا، “زبردست بیگم! تو آج ناشتے میں کیا ہوگا؟” بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا، “بس ایک سیب اور گرم پانی۔” آصف کے ہاتھ سے چمچ گر گیا، “سیب؟ اور وہ بھی ایک؟”

دوپہر کو بیگم نے آصف کو پیغام بھیجا: “میں صرف سلاد کھا رہی ہوں، تم بھی باہر کچھ ہلکا کھانا۔” آصف نے واٹس ایپ پر پیزا کا ایموجی بھیج دیا۔ فوراً جواب آیا، “یہ کیا ہے؟” آصف نے معصومیت سے لکھا، “یہ تو سبزیوں والا پیزا ہے — دیکھیں نا، اس میں ٹماٹر، پیاز، شملہ مرچ سب ہیں!” جواب آیا، “تمہاری زبان کا بھی ڈائٹ ہونا چاہیے!”

رات کو بیگم نے اعلان کیا، “آج ہم دونوں صرف سوپ پئیں گے۔” آصف نے کہا، “ٹھیک ہے، مگر سوپ کے ساتھ بریڈ؟” “نہیں، صرف سوپ!” آصف نے سر جھکایا۔ دس منٹ بعد بیگم کچن سے واپس آئیں تو دیکھا، آصف سوپ میں پراٹھا ڈبو کر کھا رہا تھا۔ بیگم چیخیں، “یہ کیا حرکت ہے؟” آصف نے مسکرا کر کہا، “بیگم، میں تو بس سوپ میں ڈوبنے کی پریکٹس کر رہا ہوں!”

اگلے دن بیگم نے خود کو شیشے میں دیکھا، “مجھے لگتا ہے میں ہلکی لگ رہی ہوں…” آصف نے مسکرا کر کہا، “جی بیگم، آپ کا موڈ واقعی ہلکا ہو گیا ہے — ہم سب ڈر کے مارے کم بولتے ہیں!” بیگم نے تکیہ اٹھایا اور سیدھا آصف پر پھینکا۔ پورا گھر ہنسی سے گونج اٹھا۔

مفہوم / عکاسی:
*بیگم کا ڈائٹ پلان* ہمیں سکھاتی ہے کہ خوشی کا بہترین نسخہ ہے — ہنسی، محبت، اور تھوڑا سا پراٹھا۔ 😄 کبھی کبھار ڈائٹ نہیں، دل کا مزاج ہلکا ہونا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔

— اختتام —