← تمام اردو کہانیاں

انکل کا موبائل

ایک بزرگ انکل آنکھوں پر چشمہ لگائے موبائل کیمرے سے سیلفی لینے کی کوشش میں ناکام۔

محلے کے انکل عبدالمجید نے جب پہلا سمارٹ فون خریدا، تو پورا محلہ انہیں استاد سمجھنے لگا۔ انکل صبح سے شام تک صرف ایک ہی کام کرتے — “سیٹنگز” میں گھومنا۔

ایک دن انہوں نے فخر سے کہا، “بیٹا! میں نے نیا ایپ انسٹال کیا ہے، نام ہے گوگل۔” سب ہنسنے لگے، “انکل وہ تو پہلے سے ہوتا ہے!” انکل بولے، “ہوتا تو ہوگا، مگر اب میرے فون میں میں نے خود ڈالا ہے، سمجھا؟”

شام کو انکل نے محلے کے سب بچوں کو بلایا، “چلو سیلفی لیتے ہیں!” کیمرہ کھولنے میں دس منٹ لگے، پھر وہ بولے، “یہ سامنے دیکھنے والی کھڑکی بند کیوں نہیں ہوتی؟” ایک بچے نے کہا، “انکل، وہ فرنٹ کیمرہ ہے۔” انکل بولے، “ہاں ہاں، مجھے معلوم ہے — میں تو بس تمہاری جانچ کر رہا تھا!”

اگلے دن انکل کی بیگم نے پریشان ہو کر کہا، “عبدالمجید! یہ فون خود بول رہا ہے، کہتا ہے — ‘آپ کا گوگل اسسٹنٹ حاضر ہے!’” انکل نے ڈر کے مارے فون الماری میں بند کر دیا۔ اور محلے میں اعلان کر دیا، “یہ فون جنّی ہے، اپنے آپ باتیں کرتا ہے!”

دو دن بعد انکل کا بیٹا آیا اور بولا، “ابا، یہ فون بہت اچھا ہے، آپ اس سے موسم بھی پوچھ سکتے ہیں۔” انکل نے کہا، “ہاں، میں نے کل ہی پوچھا تھا — ’گوگل! بیگم کا موڈ کیسا ہے؟‘ تو اس نے کہا، ‘ڈینجر! آج باہر نہ نکلیں!’”

پورا محلہ قہقہوں میں ڈوب گیا — اور انکل نے فون بند کر کے اعلان کیا، “اب میں پھر سے بٹن والا فون لوں گا، وہ کم از کم ڈانٹتا تو نہیں تھا!”

مفہوم / عکاسی:
*انکل کا موبائل* ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ٹیکنالوجی جتنی ترقی کر لے، انسان کی سادہ فطرت اور بے ساختہ مزاح ہمیشہ قیمتی رہے گا۔ ہنسی ہی وہ زبان ہے جو ہر نسل سمجھتی ہے۔ 😄📱

— اختتام —