← تمام اردو کہانیاں

چاندنی کا وعدہ

نیم چاند کی روشنی میں دو سائے خاموش دریا کے کنارے ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہوئے۔

رات چاندنی سے بھیگی ہوئی تھی۔ دریا کے کنارے ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ نایاب نے اپنی چادر کے کنارے کو مضبوطی سے تھاما، جیسے کسی یاد کو گرنے سے روک رہی ہو۔ سامنے اذلان کھڑا تھا — وہی آنکھیں، وہی خاموشی، مگر آج ان میں کوئی التجا نہیں تھی۔

"ہم کب ملیں گے؟" نایاب نے آہستہ سے پوچھا۔ اذلان نے مسکرا کر کہا، "جب چاند دوبارہ مکمل ہوگا۔" نایاب نے آسمان کی طرف دیکھا، "تو پھر یہ ادھورا چاند کب پورا ہوگا؟" اذلان بولا، "جب دل کے زخم بولنا چھوڑ دیں۔"

دریا کے پانی میں چاند کا عکس لرز رہا تھا۔ نایاب نے اپنی انگلیوں سے وہ عکس چھوا — مگر پانی میں لہریں اٹھیں اور چاند ٹوٹ گیا۔ وہ مسکرائی، "ہماری کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے، ہے نا؟" اذلان خاموش رہا، مگر آنکھوں میں جواب چھپا تھا — ہاں۔

ہوا کے ایک جھونکے نے درختوں کے پتے ہلائے، جیسے وقت کہہ رہا ہو کہ چلنے کا وقت آ گیا ہے۔ نایاب نے آخری بار مڑ کر دیکھا، “اگر کبھی چاندنی میں کسی کی ہنسی سنو، تو سمجھ لینا میں ہوں۔” اذلان نے کہا، “اور اگر کبھی تمہیں دریا کی لہریں گنگناتی محسوس ہوں، تو جان لینا میں بھی وہیں ہوں۔”

نایاب نے دریا کے کنارے ایک چھوٹا سا کاغذ رکھا، جس پر لکھا تھا: *"محبت کبھی ختم نہیں ہوتی، بس شکل بدل لیتی ہے۔"* پھر وہ روشنی میں گم ہو گئی، اور اذلان دیر تک اس کاغذ کو دیکھتا رہا — جب تک چاند آسمان پر اکیلا رہ گیا۔

مفہوم / عکاسی:
*چاندنی کا وعدہ* ہمیں سکھاتی ہے کہ محبت کا حسن ہمیشہ ساتھ رہنے میں نہیں، کبھی کبھی خاموش بچھڑنے میں بھی ایک روشنی ہوتی ہے — جو یادوں کے آسمان پر ہمیشہ جگمگاتی رہتی ہے۔ 🌙

— اختتام —