← تمام اردو کہانیاں

بارش کی خوشبو

ہلکی بارش میں دو لوگ ایک ہی چھتری کے نیچے، ہنسی اور خاموشی کے درمیان بھیگتے ہوئے۔

لاہور کی وہ شام عجیب سی تھی — بادل گہرے، ہوا میں نمی، اور سڑکوں پر بارش کے قطروں کا رقص۔ عائشہ چھتری تھامے کالج کے گیٹ کے پاس کھڑی تھی، جب ارسلان بھاگتا ہوا آیا، "میں جانتا تھا تم انتظار کرو گی۔" وہ مسکرائی، "اور میں جانتی تھی تم دیر سے آؤ گے۔"

وہ دونوں ایک ہی چھتری کے نیچے چلنے لگے۔ بارش کی بوندیں چھتری کے کنارے سے پھسل کر ان کے ہاتھوں پر گر رہی تھیں۔ ارسلان نے آہستہ سے کہا، "یہ بوندیں تمہاری ہنسی جیسی لگتی ہیں۔" عائشہ نے ہلکے سے کہا، "اور تمہاری باتیں جیسے بارش کے بعد کی خوشبو۔"

گلی کے موڑ پر وہ رُک گئے۔ عائشہ نے آسمان کی طرف دیکھا — "جب بھی بارش ہوتی ہے، لگتا ہے دنیا تھم گئی ہے۔" ارسلان نے جواب دیا، "ہاں، مگر دل کی دھڑکن نہیں رُکتی۔" وہ دونوں ہنس پڑے، مگر اس ہنسی میں کوئی انکہی بات چھپی تھی۔

اچانک ایک جھونکا آیا، چھتری ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ بارش کے قطروں نے ان کے چہروں کو چھو لیا — جیسے وقت خود رک گیا ہو۔ ارسلان نے کہا، "تم جانتی ہو، میں تمہیں ہمیشہ کے لیے یاد رکھوں گا۔" عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا، "یاد رکھنا مت — بس محسوس کرتے رہنا۔"

برسوں بعد، جب ارسلان پردیس کی ایک سڑک پر چل رہا تھا، اچانک بارش ہونے لگی۔ اس نے آنکھیں بند کیں، سانس لی — وہی خوشبو، وہی لمس، وہی احساس۔ جیسے لاہور کی وہ شام دوبارہ زندہ ہو گئی ہو۔

مفہوم / عکاسی:
*بارش کی خوشبو* یہ احساس جگاتی ہے کہ سچی محبت وقت کے ساتھ مٹتی نہیں، وہ موسموں میں چھپ جاتی ہے — اور ہر بارش میں، ہر خوشبو میں دوبارہ جنم لیتی ہے۔ ☔❤️

— اختتام —