آخری منظر
تھیٹر کی خاموشی میں صرف ایک آواز گونج رہی تھی — “ریڈی سب؟ آخری سین شروع ہو رہا ہے!” لائٹس آن ہوئیں، پردہ اٹھا، اور زاہد صاحب اسٹیج کے بیچوں بیچ کھڑے تھے۔ چالیس سال سے وہ یہی کرتے آئے تھے — دوسروں کے لیے کردار جیتے، مگر اپنی زندگی کبھی نہیں جی پائے۔
اس ڈرامے کا نام تھا *“روشنی کا انتظار”*۔ کردار میں ایک باپ تھا جو اپنے بیٹے کے لوٹنے کا انتظار کر رہا ہے۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ زاہد صاحب خود بھی اپنے بیٹے سے برسوں سے ناراض تھے — اور وہ کبھی لوٹا نہیں تھا۔ آج کا سین محض اسکرپٹ نہیں تھا، ان کے دل کی چیخ بن چکا تھا۔
مکالمہ شروع ہوا: “بیٹا! تم کیوں گئے؟ میں نے تو صرف تمہیں بہتر دیکھنا چاہا تھا!” ان کے لب لرزے، آواز بھر گئی — اسٹیج پر موجود سب نے سمجھا، یہ ان کی اداکاری ہے، مگر وہ جانتے تھے، یہ ان کے دل کی صدا ہے۔
سین ختم ہوا۔ ناظرین کھڑے ہو گئے، تالیاں گونجنے لگیں۔ مگر زاہد صاحب خاموش کھڑے رہے — ان کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔ لائٹس بند ہوئیں، پردہ گرا، اور وہ آہستہ سے بولے، “آخری منظر مکمل ہو گیا… شاید زندگی کا بھی۔”
اگلے دن تھیٹر کے باہر ایک پوسٹر لگا تھا: *“زاہد محمود — روشنی کا انتظار — آخری شو”* نیچے ایک چھوٹی سی لائن میں لکھا تھا: *“کچھ کردار صرف اسٹیج پر نہیں مرتے — وہ ناظرین کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔”*
مفہوم / عکاسی:
*آخری منظر* ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ
فن صرف تالیوں کے لیے نہیں ہوتا —
کبھی کبھار یہ زخموں کی مرہم بھی بن جاتا ہے۔
کچھ لوگ اپنی اصل کہانی وہیں سناتے ہیں،
جہاں سب سمجھتے ہیں وہ “اداکاری” کر رہے ہیں۔ 🎭
— اختتام —