لفظوں کا شہر
شہر کے ایک خاموش کمرے میں، جہاں صرف گھڑی کی ٹِک ٹِک سنائی دیتی تھی، ایک ادیب بیٹھا تھا — نام “مرزا حامد”۔ قلم ہاتھ میں، مگر صفحہ خالی۔ جیسے سوچ رک گئی ہو، یا شاید لفظوں نے ہڑتال کر دی ہو۔
اس نے ڈائری کے کنارے پر لکھا، “کہانی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟” پھر خود ہی مٹا دیا، “شاید کہانی کبھی شروع ہی نہیں ہوتی — وہ تو بس جاری رہتی ہے، ایک نسل سے دوسری نسل تک، ایک دل سے دوسرے دل تک۔”
کھڑکی کے باہر ہلکی بارش شروع ہو گئی۔ ہر بوند جیسے کوئی پرانا فقرہ یاد دلا رہی ہو۔ مرزا نے شمع کے قریب جھک کر لکھا، “لفظوں کا شہر آباد کرنا آسان نہیں — یہاں رہنے والے سب خواب دیکھتے ہیں، مگر کوئی سو نہیں پاتا۔”
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ ایک نوجوان لڑکی اندر آئی، ہاتھ میں اس کی پرانی کتاب تھی۔ “میں آپ کی تحریروں میں پلی ہوں،” اس نے کہا، “آپ کے لفظوں نے میرے دکھ کو نام دیا۔” مرزا مسکرا دیا — “تو میرا شہر زندہ ہے، اگر تم جی رہی ہو۔”
وہ لڑکی چلی گئی، مگر کمرے میں خوشبو رہ گئی — پرانی سیاہی، بارش، اور امید کی۔ مرزا نے قلم اٹھایا، اور صفحے پر لکھ دیا: *“ادب انسان کی وہ سانس ہے، جو وقت گزرنے کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔”*
اگلی صبح، اخبار میں خبر تھی: “معروف ادیب مرزا حامد رات گئے انتقال کر گئے۔ ان کی آخری تحریر میز پر رکھی ملی — عنوان: لفظوں کا شہر۔”
مفہوم / عکاسی:
*لفظوں کا شہر* اس بات کا استعارہ ہے کہ
تحریر کبھی مرتی نہیں —
وہ قاری کے دل میں نئے معنی کے ساتھ دوبارہ جنم لیتی ہے۔
ادیب جاتا ہے، مگر اس کے لفظ
ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ✍️📚
— اختتام —