خوابوں کا کنارہ
سمندر ہمیشہ سے اسے سکون دیتا تھا۔ لہروں کی آواز، ہوا کی خنکی، اور ڈوبتا سورج — جیسے سب اس کے دل کے راز سننے کو رکے ہوں۔ اس کا نام **ایمان** تھا، اور وہ ان لوگوں میں سے تھی جو خاموشی سے اپنی کہانیاں لکھتی ہیں، مگر کسی کو سناتی نہیں۔
آج اس کے ہاتھ میں ایک پرانا خط تھا، جو برسوں پہلے کسی نے ساحل پر رکھا تھا — "اگر کبھی تم واپس آؤ، تو میں یہیں ہوں۔" خط پر نام نہیں تھا، مگر ایمان کو معلوم تھا یہ **ارسلان** کا ہی ہو سکتا ہے۔
وہ دونوں کالج کے دنوں میں ملے تھے — وہ خوش مزاج، شوخ، زندگی سے بھرپور؛ اور وہ، ایک خواب دیکھنے والی، جو خاموشی میں مسکراتی تھی۔ ان کی پہلی ملاقات لائبریری کے باہر ہوئی، جب ارسلان نے پوچھا، “تم ہمیشہ اتنی خاموش کیوں رہتی ہو؟” ایمان نے ہنس کر کہا، “کیوں کہ لفظ اکثر سچ چھپا لیتے ہیں۔”
دن مہینوں میں بدل گئے۔ ان کے بیچ ایک ایسا رشتہ بن گیا جو کسی وعدے کا محتاج نہیں تھا۔ بس نگاہوں میں گفتگو، اور دل میں اعتماد۔ مگر وقت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔
ارسلان کو اسکالرشپ مل گئی — ایک ملک جہاں فاصلے صرف میلوں میں نہیں، بلکہ خاموشیوں میں بھی ناپے جاتے ہیں۔ جانے سے ایک دن پہلے، اس نے ایمان سے کہا، “واپسی پر ہم اپنا گھر بنائیں گے — ایک ایسا جہاں خاموشی بھی محبت بن جائے۔” ایمان نے صرف اتنا کہا، “میں انتظار کروں گی۔”
سال گزرتے گئے۔ ای میلز آنا بند ہو گئیں، پھر خطوط، پھر خبریں۔ دنیا نے آگے بڑھنے کا مشورہ دیا، مگر ایمان نے صرف ساحل بدل لیا — محبت نہیں۔
آج اسی ساحل پر بیٹھے اسے لگا جیسے ہوا میں اس کی آواز ہے۔ “تم اب بھی انتظار کر رہی ہو؟” ایمان نے آنکھیں بند کر کے کہا، “محبت کا مطلب ملنا نہیں، بس دعا دینا ہے — چاہے وہ دور ہو یا خاموش۔”
اچانک اسے ریت میں ایک بوتل نظر آئی۔ اندر ایک چھوٹا سا کاغذ — “میں نے لوٹنے کی کوشش کی، مگر وقت نے اجازت نہیں دی۔ اگر تم یہ پڑھ رہی ہو، تو جان لو — تم میری آخری دعا میں ہمیشہ رہی ہو۔”
ایمان مسکرا دی۔ آنسو نہیں بہے — وہ تو برسوں پہلے بہہ چکے تھے۔ اس نے بوتل سمندر میں واپس پھینک دی، جیسے محبت کو رخصت نہیں، بلکہ گھر بھیج رہی ہو۔
شام ڈھل چکی تھی۔ سمندر نے سورج کو نگل لیا، مگر آسمان کے کنارے ایک لکیریں باقی تھیں — جیسے محبت کبھی مکمل نہ ہو کر بھی باقی رہتی ہے۔
مفہوم / عکاسی:
*خوابوں کا کنارہ* اس بات کا استعارہ ہے
کہ سچی محبت انجام کی نہیں، احساس کی محتاج ہوتی ہے۔
کچھ لوگ واپس نہیں آتے —
مگر ان کی یاد ہمیشہ دل کے کنارے بیٹھے سمندر کی طرح رہتی ہے۔ 🌊💔
— اختتام —