بارش میں بھیگا وعدہ
بارش ہلکی ہلکی برس رہی تھی۔ پرانی گلیوں میں خوشبو پھیلی ہوئی تھی — مٹی، چائے اور کسی کے انتظار کی۔ وہ چھتری تھامے خاموشی سے کھڑا تھا، جیسے وقت رک گیا ہو۔ سامنے وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی آ رہی تھی۔
**آیرا**۔ برسوں بعد۔ وہی چہرہ، وہی آنکھیں — مگر اب ان میں بچپن کا خواب نہیں، کسی گہری تھکن کی روشنی تھی۔
“تم واقعی آئے ہو…” اس نے مدھم آواز میں کہا۔ اس نے مسکرا کر جواب دیا، “وعدے اگر دل سے ہوں، تو وقت بھی روکنا پڑتا ہے۔”
بارش تیز ہو گئی۔ دونوں چھتری کے نیچے آ گئے، جیسے دنیا سے بچا کوئی لمحہ ہو۔ آیرا نے کہا، “تمہیں یاد ہے، ہم نے یہی کہا تھا — اگر کبھی بچھڑ گئے، تو پہلی بارش میں دوبارہ ملیں گے؟”
وہ ہنسا، “یاد ہے۔ تم نے کہا تھا، تم بارش سے ڈرتی ہو۔” آیرا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، “اب نہیں۔ اب صرف خاموشی سے ڈر لگتا ہے۔”
دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے رہے۔ لفظ کم تھے، مگر احساس بہت۔ برسوں کی دوری جیسے ایک لمحے میں سمٹ گئی تھی۔
“میں نے تمہیں خط لکھے تھے…” اس نے کہا۔ آیرا نے نظریں نیچی کر کے کہا، “میں نے سب رکھ لیے۔ بس جواب نہیں دے پائی — کیونکہ کبھی کبھی محبت جواب نہیں مانگتی، صرف یقین چاہتی ہے۔”
بارش کی بوندیں چھتری سے پھسل کر زمین پر گرتی رہیں۔ ایک لمحے کے لیے آیرا نے چھتری ہٹا دی۔ دونوں بھیگ گئے — مگر شاید وہ بارش صرف پانی نہیں تھی، بلکہ برسوں کے فاصلے دھو رہی تھی۔
“اگر وقت ہمیں دوبارہ جدا کرے؟” آیرا نے پوچھا۔ اس نے آہستہ سے کہا، “تو بارش کو دیکھنا — میں وہیں کہیں قریب ہوں گا۔”
سورج غروب ہونے لگا۔ آیرا نے جاتے ہوئے پلٹ کر دیکھا، وہ اب بھی کھڑا تھا — جیسے وعدہ آج بھی بارش کے ساتھ زندہ ہو۔
مفہوم / عکاسی:
*بارش میں بھیگا وعدہ* اس احساس کی کہانی ہے
جو وقت، فاصلے اور خاموشی کے باوجود باقی رہتا ہے۔
کچھ محبتیں ختم نہیں ہوتیں —
وہ صرف موسم بدل کر لوٹتی ہیں،
بارش بن کر، یا کسی وعدے کی خوشبو بن کر۔ ☔❤️
— اختتام —