← تمام اردو کہانیاں

آخری سلام

پرانا ریلوے اسٹیشن، شام کا وقت، پلیٹ فارم پر رکی ایک خالی ٹرین اور اڑتی دھول میں دھندلا سا سایہ۔

ریلوے اسٹیشن ہمیشہ شور میں ڈوبا رہتا ہے، مگر اس دن عجب خاموشی تھی۔ شام کی دھند میں ایک پرانی ٹرین کھڑی تھی، اور **منیزہ** پلیٹ فارم پر بیٹھے ایک خط کو مروڑ رہی تھی۔

خط کے الفاظ دھندلے ہو چکے تھے، مگر ہر جملہ جیسے دل کی دیوار پر نقش تھا۔ “واپس آؤں گا — وعدہ رہا،” یہ آخری سطر تھی جو **احمد** نے لکھی تھی، جانے سے پہلے۔

پانچ سال گزر چکے تھے۔ احمد جنگی علاقے میں رپورٹر تھا۔ خبریں آتی رہتیں — کبھی گمشدہ، کبھی زخمی، کبھی واپس آنے کی اُمید۔ مگر منیزہ کے لیے وقت رک گیا تھا۔ ہر صبح وہ اسٹیشن آتی، ہر شام خالی ہاتھ لوٹتی۔

اُس نے خط کو لپیٹا، اور اپنے دل کے قریب رکھا۔ آسمان پر سورج ڈوب رہا تھا — جیسے کوئی آخری سلام دے رہا ہو۔ اچانک لاؤڈ اسپیکر سے آواز گونجی: “پشاور ایکسپریس، پلیٹ فارم نمبر دو پر پہنچنے والی ہے۔”

منیزہ کے قدم بے اختیار اُٹھے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ ٹرین رُکی، دروازے کھلے، مسافر اُترنے لگے۔ وہ چہرے دیکھتی رہی، ایک ایک مسافر کے درمیان احمد کو ڈھونڈتی رہی۔

مگر ہر چہرہ اجنبی تھا۔ آخر میں صرف ایک سپاہی اُترا — ہاتھ میں ایک چھوٹا سا لفافہ۔ وہ قریب آیا اور بولا، “بی بی جی، یہ اُن کے نام سے تھا… اُن کے آخری سامان میں ملا۔”

منیزہ نے لفافہ تھاما — اندر صرف ایک تصویر تھی، احمد کی، جس کے پیچھے لکھا تھا: “اگر میں لوٹ نہ سکا تو سمجھ لینا میں ہوا بن گیا، جو تمہارے آس پاس رہے گی — ہمیشہ۔”

اس کی آنکھوں سے ایک آنسو گرا، مگر ہونٹوں پر ایک نرم مسکراہٹ تھی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا — شام کی ہوا اُس کے بالوں میں گھل گئی تھی۔ جیسے احمد واقعی واپس آ گیا ہو۔

وہ پلیٹ فارم سے اُٹھی، خط، تصویر اور ہوا — تینوں اس کے ساتھ تھے۔ زندگی چلتی رہی، مگر اُس کے اندر ایک سلام ہمیشہ گونجتا رہا — “الوداع نہیں… پھر ملیں گے۔”

مفہوم / عکاسی:
*آخری سلام* ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جدائی ہمیشہ ختم نہیں کرتی — بعض اوقات وہ تعلق کو ابدی بنا دیتی ہے۔ جب کوئی شخص جسم سے چلا جاتا ہے، تو احساس ہوا بن کر رہ جاتا ہے۔ محبت کی اصل صورت وہ نہیں جو ہم دیکھتے ہیں، بلکہ وہ ہے جو دل کے اندر سانس لیتی ہے۔ 🌫️💌

— اختتام —