← تمام اردو کہانیاں

وقت کی خوشبو

شام کے وقت دریا کے کنارے بیٹھا ایک شخص، ہاتھ میں پرانا پرفیوم کا شیشی، اور سامنے سورج غروب ہو رہا ہے۔

لاہور کی سرد شام تھی۔ ہوا میں نمی اور اداسی کا خفیف سا لمس تھا۔ **ریحان** دریائے راوی کے کنارے بیٹھا پرانی پرفیوم کی شیشی کو تکتا رہا۔ یہ وہی خوشبو تھی — جو **نور** استعمال کرتی تھی۔

پانچ برس گزر چکے تھے اُن کے بچھڑنے کو، مگر ریحان کے لیے وقت وہیں رُک گیا تھا۔ ہر دن، ہر لمحہ، وہ خوشبو جیسے اسے دوبارہ زندہ کر دیتی۔

نور اُس کی یونیورسٹی کی ساتھی تھی — شوخ، مگر اندر سے بہت حساس۔ دونوں ایک ہی لائبریری میں گھنٹوں بیٹھے رہتے۔ کبھی کتابوں کی بات، کبھی خوابوں کی۔ ریحان کہتا، "تمہاری باتوں میں وقت بھی ٹھہر جاتا ہے۔" اور نور ہنس کر کہتی، "تو پھر وقت کو بٹھا لو، کہیں جانا ہی مت دینا!"

مگر وقت ہمیشہ اپنا راستہ بناتا ہے۔ ریحان کے والد کی موت کے بعد حالات نے رخ بدل دیا۔ وہ پڑھائی چھوڑ کر کاروبار میں لگا، اور نور، اپنے والد کے اصرار پر، لندن چلی گئی۔

جانے سے پہلے نور نے اسے یہی پرفیوم دیا تھا، "جب میری یاد آئے، تو یہ خوشبو لگا لینا… شاید میں واپس آ جاؤں۔" ریحان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اُسے ڈھونڈنے ضرور جائے گا۔ مگر وعدے ہمیشہ انسان نہیں نبھاتا — کبھی حالات نبھانے نہیں دیتے۔

برسوں بعد ریحان نے کاروبار کھڑا کیا، نام کمایا، مگر دل کے کسی کونے میں وہ خوشبو باقی رہی۔ آج اس نے سنا کہ نور واپس لاہور آئی ہے، ایک آرٹ ایگزیبیشن کے لیے۔

ریحان وہاں گیا — دیواروں پر تصویریں تھیں، رنگ، احساس، اور ایک تصویر… دریا کے کنارے بیٹھے ایک شخص کی — جس کے ہاتھ میں پرفیوم کی وہی شیشی تھی۔

نیچے لکھا تھا: “وقت کی خوشبو — از نور احمد” ریحان کی آنکھوں میں نمی بھر آئی۔ وہ جان گیا — نور نے وقت کو نہیں بھلایا۔ وہ آج بھی اُسی لمحے میں زندہ تھی۔

پیچھے سے ایک مانوس آواز آئی، “اب خوشبو ختم ہو گئی یا اب بھی تازہ ہے؟” ریحان نے پلٹ کر دیکھا — وہ نور تھی۔ بالوں میں چاندی کی ہلکی لکیریں، مگر مسکراہٹ وہی۔

لمحہ تھم گیا۔ وہ دونوں خاموش کھڑے رہے — جیسے برسوں کا فاصلہ ایک سانس میں سمٹ گیا ہو۔

ریحان نے پرفیوم کی شیشی بڑھائی، “یہ اب تمہاری ہے — تم ہی کی خوشبو ہے۔” نور نے مسکرا کر کہا، “نہیں ریحان، یہ تمہارے وقت کی خوشبو ہے — اسے وہیں رہنے دو جہاں محبت نے اسے چھوڑا تھا۔”

شام ڈھل گئی۔ دونوں نے دریا کے کنارے بیٹھ کر وہی خاموشی بانٹی جو کبھی وعدہ بن کر رہ گئی تھی۔ وقت بدل گیا تھا، مگر احساس نہیں۔

مفہوم / عکاسی:
*وقت کی خوشبو* یہ سکھاتی ہے کہ سچی محبت کبھی ختم نہیں ہوتی — وہ وقت کے ساتھ صرف شکل بدل لیتی ہے۔ کبھی خوشبو بن کر، کبھی یاد، اور کبھی صرف ایک نرم سی مسکراہٹ کے روپ میں۔

— اختتام —