ابا جی کا موبائل
ہمارے گھر میں ایک تاریخی دن تھا — **ابا جی** نے پہلی بار موبائل فون خریدا۔ وہ بھی “سمارٹ فون”۔ امی نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا، “یہ فون نہیں، گھر میں قیامت لانے والا ہے!”
ابا جی نے فون ہاتھ میں پکڑا، آنکھیں تنگ کر کے اسکرین کو ایسے دیکھا جیسے وہ ان کی پرانی دشمن ہو۔ “اوئے، یہ آن ہوتا ہے یا خود بولتا ہے؟” میں نے کہا، “ابا جی، بٹن دبائیں، چلے گا۔” ابا جی نے پورے ہاتھ سے دبا دیا — اور فون چیخ اٹھا، *"Emergency Call Activated!"*
پانچ منٹ بعد گلی میں پولیس کی گاڑی آئی۔ ابا جی نے گھبرا کر کہا، “میں تو صرف بیٹی کو کال کر رہا تھا، پولیس کیوں آ گئی؟” میں نے سر پکڑ لیا۔ “ابا جی، آپ نے ایمرجنسی نمبر دبا دیا تھا۔” ابا جی بولے، “تو وہ نمبر فون کے اندر کیوں رکھا ہے؟ خطرناک چیز ہے یہ!”
اگلے دن ابا جی نے اعلان کیا، “آج میں ویڈیو کال سیکھوں گا۔” میں نے کہا، “ابا جی، آسان ہے۔ بس کیمرے والا بٹن دبائیں۔” دس منٹ بعد گھر کی چھت سے چیخ سنائی دی — “ارے اوئے! یہ کیمرہ خود کیوں گھومتا ہے؟ میں تو کپڑے بھی ٹھیک سے نہیں پہنے!”
پتہ چلا کہ ابا جی نے غلطی سے *360-degree camera mode* آن کر لیا تھا۔ پورے محلے نے فیس بک پر ابا جی کی لائیو ویڈیو دیکھ لی۔ تب ابا جی نے موبائل بند کیا اور کہا، “یہ فون نہیں، جاسوس ہے!”
اگلی شام، امی کے کہنے پر ابا جی نے “واٹس ایپ گروپ” بنانا سیکھا۔ نام رکھا: **“اہلِ عقل کا اجتماع”** اور پہلے دن ہی غلطی سے مسجد کے امام صاحب کو میم بھیج دی جس میں لکھا تھا: “آج نماز مختصر رکھیں، بکرے کا قورمہ بن رہا ہے۔”
امام صاحب نے فون کیا، “مولوی صاحب نہیں ہوں میں، بس فون سے دعا کر دیتا ہوں۔” ابا جی نے معصومیت سے کہا، “تو واٹس ایپ پر نماز نہیں ہوتی کیا؟”
چند دن بعد ابا جی نے ایک تصویر دیکھی جس میں لکھا تھا: *“شیئر کرو ورنہ نقصان ہوگا!”* انہوں نے وہ تصویر پورے گاؤں کو بھیج دی۔ اگلی صبح بینک کے مینجر سے لے کر محلے کے دکاندار تک سب نے شکایت کر دی۔ ابا جی بولے، “میں تو سب کی بھلائی کے لیے کر رہا تھا، شاید نصیب کھل جائیں!”
بالآخر، امی نے ان کا فون ضبط کر لیا۔ ابا جی نے سنجیدگی سے کہا، “بس ٹھیک ہے، اب دنیا جانے مجھے یاد کرے گی جب میں *آن لائن* نہیں رہوں گا۔”
دو دن بعد وہ چھپ کر میرا پرانا فون لے آئے۔ امی نے دیکھا تو پوچھا، “یہ کہاں سے آیا؟” ابا جی بولے، “فرشتوں نے دیا ہوگا، جب نیت صاف ہو تو راستے خود بن جاتے ہیں!”
مفہوم / عکاسی:
*ابا جی کا موبائل* ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
ٹیکنالوجی سے زیادہ دلچسپ چیز انسان کی سادہ نیت ہے۔
ہنسی تب آتی ہے، جب محبت اور بھولپن ساتھ ہوں۔
— اختتام —