← تمام اردو کہانیاں

خاموش آنسو

بارش کے دوران ایک کھڑکی کے پاس بیٹھی ماں، ہاتھ میں بیٹے کی تصویر، اور باہر گرتی بوندوں کی چمک۔

شام ڈھل رہی تھی۔ کمرے میں صرف ایک بلب جل رہا تھا، جس کی روشنی ماں کے چہرے پر ٹوٹ کر پڑ رہی تھی۔ ہاتھ میں بیٹے کی تصویر تھی، جسے وہ ہر روز دیکھتی، جیسے اس تصویر میں سانس لیتی ہو۔

**عائشہ** کا بیٹا **سلمان** تین سال پہلے فوج میں بھرتی ہوا تھا۔ جب وہ گیا، اُس نے کہا تھا، “امی، بس ایک سال میں واپس آؤں گا، میڈل بھی لے کر، اور آپ کے لیے نیا دوپٹہ بھی۔” مگر وقت گزرتا گیا — دوپٹہ تو پرانا ہو گیا، مگر سلمان واپس نہ آیا۔

اس دن جب فوجی جیپ گلی میں آئی، تو سب لوگ سمجھ گئے کہ خبر خوشی کی نہیں۔ عائشہ کے ہاتھوں سے چائے کا کپ گر گیا، اور وہ دروازے کی چوکھٹ کے ساتھ گر کر خاموش ہو گئی۔

“آپ کا بیٹا وطن پر قربان ہو گیا…” بس یہی الفاظ سنے، باقی سب جیسے ہوا میں تحلیل ہو گیا۔

اب ہر شام وہ کھڑکی کے پاس بیٹھتی، جہاں سے سلمان اسکول جاتا تھا، اور آسمان کی طرف دیکھ کر دھیرے سے کہتی، “بیٹا، آج پھر تمہاری پسند کی دال بنائی ہے، آؤ نا کبھی۔”

محلے والے اکثر کہتے، “عائشہ بی بی، وقت سب زخم بھر دیتا ہے۔” وہ مسکرا کر جواب دیتی، “وقت زخم نہیں بھرتا، بس آنسو خشک کر دیتا ہے۔”

ایک دن بارش ہوئی — بالکل ویسی، جیسے سلمان کو پسند تھی۔ عائشہ نے تصویر کھڑکی کے پاس رکھی اور کہا، “دیکھو سلمان، آج بارش آئی ہے، تمہاری خوشبو بھی ساتھ لائی ہے۔” ہوا کے جھونکے نے تصویر ہلکی سی ہلائی — جیسے کوئی کہہ رہا ہو، “امی، میں آ گیا ہوں۔”

اس لمحے عائشہ کی آنکھوں سے خاموش آنسو بہہ گئے۔ کوئی چیخ نہیں، کوئی فریاد نہیں — بس ایک ماں اور اُس کی یاد کے درمیان وہ خاموشی، جو لفظوں سے زیادہ طاقتور تھی۔

رات گہری ہوئی، کھڑکی بند ہوئی، مگر عائشہ کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ وہ جانتی تھی، کچھ رشتے جسم سے نہیں، روح سے جڑے ہوتے ہیں۔

مفہوم / عکاسی:
*خاموش آنسو* یہ سکھاتی ہے کہ ماں کی محبت کبھی ختم نہیں ہوتی — وہ وقت، موت اور فاصلے سے بھی بڑی ہوتی ہے۔ کبھی دعا بن کر، کبھی یاد، اور کبھی خاموش آنسوؤں کی صورت میں۔

— اختتام —