بارش کے بعد
وہ شام کچھ مختلف تھی۔ لاہور کی گلیوں پر بارش برس رہی تھی، اور ایمان اپنی چھتری کے نیچے سڑک پار کر رہی تھی جب اچانک ایک مانوس آواز سنائی دی — “ایمان؟”
وہ پلٹا تو سامنے روحیل کھڑا تھا، بھیگا ہوا، مگر مسکرا رہا تھا۔ چار سال بعد، وہی چہرہ، وہی آنکھیں — بس درمیان میں وقت کا فاصلہ آ گیا تھا۔
دونوں چند لمحے خاموش رہے۔ بارش کی بوندیں زمین پر گرتی رہیں، جیسے وقت بھی رک گیا ہو۔ ایمان نے آہستہ سے کہا، “تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” روحیل نے جواب دیا، “شاید وہی جو تم — ماضی سے بچنے کی کوشش۔”
دونوں ایک پرانی کافی شاپ میں بیٹھ گئے۔ وہی جگہ جہاں کبھی محبت نے پہلی بار سرگوشی کی تھی۔ کافی کا بھاپ اٹھ رہا تھا، مگر ان کے درمیان ٹھنڈک تھی — وہ ٹھنڈک جو لفظوں کے بعد رہ جاتی ہے۔
“میں نے تمہیں معاف نہیں کیا تھا،” ایمان نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔ روحیل نے جواب دیا، “میں نے خود کو بھی نہیں۔”
پھر ایک لمحہ ایسا آیا جب خاموشی دونوں کے درمیان بولنے لگی۔ یادیں، خواب، تلخیاں — سب کچھ جیسے ایک بار پھر زندہ ہو گیا۔
روحیل نے کہا، “ایمان، تمہیں یاد ہے وہ دن جب ہم بارش میں چھتری بھول گئے تھے؟” ایمان مسکرا دی، “ہاں، اور تم نے کہا تھا — ‘محبت چھتری نہیں ہوتی، بھیگنے کا حوصلہ ہوتی ہے۔’”
وہ ہنسنے لگے، مگر ہنسی میں ایک نمی چھپی تھی۔ ایمان نے کافی کا آخری گھونٹ پیا اور بولی، “زندگی نے تمہیں کیا سکھایا، روحیل؟”
اس نے آہستہ سے کہا، “کہ کچھ لوگ واپس نہیں آتے، لیکن ان کی خوشبو وقت سے آگے تک رہتی ہے۔”
باہر بارش رک گئی تھی۔ ایمان نے اپنا بیگ اٹھایا، “خوش رہنا، روحیل۔” وہ چلی گئی، اور روحیل نے کھڑکی سے باہر دیکھا — آسمان صاف ہو چکا تھا، جیسے بارش کے بعد دل بھی ہلکا ہو گیا ہو۔
کچھ دن بعد، روحیل کو ایک خط ملا۔
ایمان کا۔
صرف دو جملے لکھے تھے:
“محبت ختم نہیں ہوتی،
وہ صرف اپنی شکل بدل لیتی ہے۔”
اس نے خط لپیٹا، الماری کے اندر رکھا، اور دھیرے سے کہا، “شاید یہی سکون ہے — کسی کو کھو کر بھی، دل میں باقی رکھ لینا۔”
مفہوم / عکاسی:
*بارش کے بعد* یہ کہانی ہے
محبت کے اُس رُخ کی جو ہمیشہ ساتھ نہیں رہتا،
مگر ہمیشہ محسوس ہوتا ہے۔
یہ یاد دلاتی ہے کہ کچھ رشتے وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے —
وہ دل کے موسموں میں زندہ رہتے ہیں۔
— اختتام —