چائے کا کپ اور قاضی صاحب
ہمارے محلے کے قاضی صاحب کو لوگ "چائے کا فلسفی" کہتے تھے۔ وجہ یہ کہ وہ ہر بات چائے پیتے پیتے ایسے سمجھاتے تھے جیسے دنیا کا راز چائے کی پتی میں چھپا ہو۔
ایک دن قاضی صاحب کے گھر رشتہ دیکھنے والے آئے۔ لڑکی کے والد صاحب بہت سنجیدہ مزاج تھے، اور ان کا پہلا سوال تھا: “قاضی صاحب! آپ کی آمدنی کیا ہے؟”
قاضی صاحب نے چائے کا گھونٹ لیا، پھر اطمینان سے بولے، “جناب، آمدنی اتنی ہے کہ چائے کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی۔”
لڑکی کے والد صاحب کنفیوز ہو گئے، “مطلب؟” قاضی صاحب بولے، “یعنی چولہا ہمیشہ جلتا رہتا ہے۔” سب ہنس پڑے، مگر والد صاحب کے چہرے پر کوئی تاثر نہ آیا۔
قاضی صاحب نے بات بدلنے کے لیے پوچھا، “چینی کتنی ڈالوں آپ کی چائے میں؟” والد صاحب بولے، “تین چمچ۔” قاضی صاحب نے مسکرا کر کہا، “محبت میں بھی اتنی مٹھاس رکھیں تو زندگی آسان ہو جائے!”
لڑکی کے والد صاحب کے ساتھ بیٹھے ایک ماموں بولے، “آپ تو بہت ہنس مکھ ہیں، مگر شادی کے بعد یہ مزاح چلے گا؟” قاضی صاحب نے کہا، “اگر چائے میں چینی ختم بھی ہو جائے، تب بھی کپ میں خوشبو باقی رہتی ہے — میرا مزاح بھی ایسا ہی ہے۔”
اس بات پر سب کے چہرے کھل گئے، اور قاضی صاحب نے دل ہی دل میں سوچا، “چائے نے پھر عزت بچا لی۔”
رشتہ منظور ہو گیا۔ شادی کے بعد پہلی رات، بیگم نے چائے کا کپ لا کر دیا۔ قاضی صاحب نے پہلا گھونٹ لیا اور کہا، “یہ چائے کچھ کڑوی لگ رہی ہے۔” بیگم بولیں، “جی ہاں، شادی کے بعد سب میٹھا نہیں رہتا!”
قاضی صاحب نے کپ نیچے رکھا اور ہنس کر کہا، “لگتا ہے آج فلسفہ بدلنا پڑے گا۔”
اگلے دن محلے میں سب کہہ رہے تھے، “قاضی صاحب اب بھی ہنس رہے ہیں — بس چائے میں چینی کم اور سمجھداری زیادہ ڈالنے لگے ہیں۔”
مفہوم / عکاسی:
زندگی چائے کی طرح ہے — کبھی کڑوی، کبھی میٹھی،
مگر جب تک ہم مسکرانا نہیں چھوڑتے،
ذائقہ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔
— اختتام —